ملکی دفاع میں خود انحصاری کی جانب بڑا قدم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ‘پی او ایف’ واہ کا دورہ، مقامی اسلحے کے ٹرائلز کا معائنہ

ملکی دفاع میں خود انحصاری کی جانب بڑا قدم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ‘پی او ایف’ واہ کا دورہ، مقامی اسلحے کے ٹرائلز کا معائنہ

چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر  نے  پاکستان کی سب سے بڑی دفاعی صنعت پاکستان آرڈیننس فیکٹریز(پی او ایف) واہ کا دورہ کیا ہے۔

اس دورے کا بنیادی مقصد فیکٹری کی پیداواری صلاحیتوں، برآمدی استعداد اور ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے مقامی کاوشوں کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل ‘عاصم منیر’ نے ملکی دفاع کے سب سے بڑے ڈیفنس انڈسٹریل کمپلیکس پاکستان آرڈیننس فیکٹری (پی او ایف) ‘واہ’ کا انتہائی اہم دورہ کیا ہے۔

اس دورے کے دوران ادارے کی عسکری خدمات اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

مقامی اسلحہ سازی اور جدت طرازی پر بریفنگ

دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ‘پی او ایف’ کے آپریشنز، وسیع تر سرگرمیوں اور عسکری ساز و سامان کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ہارورڈ بزنس سکول کے طلبہ کے وفد کی ملاقات

انہیں آگاہ کیا گیا کہ یہ دفاعی کمپلیکس کس طرح نت نئے اور متنوع فوجی آلات تیار کر کے ملکی دفاعی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کر رہا ہے۔

اس موقع پر آرمی چیف نے مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے گئے جدید اسلحے اور گولہ بارود کے ٹیسٹ اور ٹرائلز کا بھی بذات خود معائنہ کیا۔

انہوں نے جدت، خود انحصاری اور ملکی دفاعی پیداوار کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ‘پی او ایف’ کے غیر متزلزل عزم کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

ڈپرا آرڈیننس اور 2 نئے صنعتی پلانٹس کی تنصیب

فیلڈ مارشل کو دفاعی پیداوار کے ادارے میں جدید اصلاحات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ انہیں ‘ڈپرا’ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ‘پی او ایف’ میں جاری کارپوریٹائزیشن کے عمل میں ہونے والی اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا۔

مزید برآں آرمی چیف کو مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور انڈسٹریل استعداد کار بڑھانے کے لیے لگائے جانے والے 2 نئے صنعتی پلانٹس پر بریفنگ دی گئی۔

حکام کے مطابق یہ دونوں جدید پلانٹس رواں سال کے اختتام تک اپنی باقاعدہ پیداوار کا آغاز کر دیں گے۔ آرمی چیف کے اس دورے نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری، مقامی سطح پر پیداوار میں اضافے اور تکنیکی جدت طرازی کے لیے عسکری قیادت کے پختہ عزم کو مزید اجاگر کیا ہے۔

پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (پی او ایف) قیامِ پاکستان کے بعد سے ملکی دفاع اور پاک فوج کی عسکری ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

بدلتے ہوئے عالمی حالات، معاشی چیلنجز اور غیر ملکی اسلحے کی بھاری قیمتوں کے پیشِ نظر پاکستان نے اپنی دفاعی پالیسی میں بیرونِ ملک انحصار کو بتدریج کم کرنے کا اصولی فیصلہ کر رکھا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے دفاعی اداروں کو جدید کارپوریٹ ماڈل پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد نہ صرف اندرونی دفاعی ضروریات کو جدید تقاضوں کے مطابق مقامی طور پر پورا کرنا ہے، بلکہ برآمدی استعداد کو بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ بھی کمانا ہے۔

فیلڈ مارشل  سید عاصم منیر کا یہ دورہ دفاعی اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے ایک نہایت گہرا اور واضح پیغام دیتا ہے۔

‘ڈپرا’ آرڈیننس کے تحت ‘پی او ایف’ کی کارپوریٹائزیشن دراصل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب عسکری ادارے روایتی بیوروکریٹک رکاوٹوں سے نکل کر جدید عالمی مارکیٹ کے مسابقتی رجحانات اپنا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران مکمل ، ایرانی صدر اور اعلی حکام سے اہم ملاقاتیں، آئی ایس پی آر

2 نئے صنعتی پلانٹس کا فعال ہونا محض پیداواری صلاحیت کا اضافہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس عزم کا ثبوت ہے کہ ‘پاکستان’ تیزی سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور دفاعی خود مختاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ایسے اقدامات سے نہ صرف ملکی دفاعی بجٹ میں نمایاں کفایت شعاری آئے گی، بلکہ بین الاقوامی منڈیوں میں ‘پاکستانی’ اسلحے کی برآمدات بھی بڑھیں گی، جس کا براہِ راست فائدہ ملکی معیشت کو ہوگا۔

اس پوری سرگرمی کا نچوڑ یہ ہے کہ ملکی دفاع اب محض سرحدوں پر فوج کی تعیناتی تک محدود نہیں رہا، بلکہ معاشی خود مختاری اور مقامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کی تخلیق اس جنگ کا ایک لازمی اور اہم ترین حصہ بن چکے ہیں۔

Related Articles