وزیر اعظم نے سیکرٹری صحت کو کیوں ہٹایا ؟ اصل وجہ سامنے آگئی

وزیر اعظم نے سیکرٹری صحت کو کیوں ہٹایا ؟ اصل وجہ سامنے آگئی

پمز اسپتال کے شعبہ اطفال کے آئی سی یو میں آتشزدگی اور 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وفاقی سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹائے جانے کے معاملے کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق سیکرٹری صحت کو مبینہ طور پر اس ناکامی پر عہدے سے ہٹایا گیا کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے اسلام آباد کے اسپتالوں، بالخصوص پمز، کے بار بار دورے کی ہدایات پر عملدرآمد نہیں کرسکے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے متعدد مواقع پر سیکرٹری صحت کو ہدایت کی تھی کہ وہ خود اسپتالوں کا دورہ کرکے وہاں علاج معالجے کے معیار، طبی سہولیات، مریضوں کے لیے انتظامات اور دیگر امور کا موقع پر جائزہ لیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری صحت کو خاص طور پر اسپتالوں میں جدید طبی آلات اور الیکٹرو میڈیکل آلات کی دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی، تاہم مطلوبہ دورے بروقت نہ ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق پمز میں آتشزدگی کے واقعے سے صرف چار روز قبل بھی وزیراعظم کی جانب سے سیکرٹری صحت کو اسپتال کا دورہ کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم یہ دورہ بھی نہ ہوسکا۔

واقعے کے بعد وزیراعظم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا اور سانحے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم کردی۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایئر پورٹ پر پھنس گئے ، اپنا سسٹم ہی جواب دے گیا

تاہم ذرائع نے واضح کیا ہے کہ سیکرٹری صحت کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ سانحے کی مکمل ذمہ داری ان پر عائد کردی گئی ہے۔ حتمی ذمہ داری کا تعین انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا۔

سیکرٹری صحت کی برطرفی کے بعد اب اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا احتساب کا دائرہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال تک بھی پہنچے گا؟

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت کے خلاف فی الحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم مختلف حلقوں کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ انکوائری کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوسکے گا کہ ذمہ داری کس کس سطح پر عائد ہوتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سنگین انتظامی ناکامیوں کے معاملات میں بعض اوقات ابتدائی طور پر متعلقہ افسر کو عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے، جبکہ مزید کارروائی انکوائری مکمل ہونے اور ذمہ داری طے ہونے کے بعد کی جاتی ہے۔

انکوائری کا دائرہ صرف وزارت صحت تک محدود نہیں بلکہ پمز کی انتظامیہ اور انتظامی و تکنیکی امور کے ذمہ دار افسران بھی تحقیقات کا سامنا کرسکتے ہیں۔

کمیٹی کی جانب سے اسپتال کے عملے اور افسران کے بیانات ریکارڈ کیے جانے، آتشزدگی کی اطلاع ملنے سے لے کر فائر بریگیڈ کے پہنچنے تک کی ٹائم لائن کا جائزہ لینے اور ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات کا بھی جائزہ لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

واقعے کے بعد اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات، ایمرجنسی ایگزٹ، آگ بجھانے کے آلات، تکنیکی عملے کی موجودگی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملے کی تربیت سمیت کئی سوالات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی کہ سانحے میں انتظامی، تکنیکی یا کسی اور سطح پر کس کی غفلت سامنے آتی ہے اور کن افسران یا حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں اگر اعلیٰ سطح پر انتظامی غفلت یا نگرانی میں ناکامی کی نشاندہی کی گئی تو سیکرٹری صحت کے بعد دیگر ذمہ دار حکام کے خلاف بھی کارروائی کا امکان موجود ہے۔

سانحہ پمز نے ملک کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں نگرانی، فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور انتظامی جوابدہی کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اب نظریں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر ہیں کہ 14 نومولود بچوں کی جانیں لینے والے اس سانحے کی ذمہ داری کہاں تک طے ہوتی ہے اور احتساب کا دائرہ کن عہدوں تک پہنچتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles