مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس کل استنبول میں ہوگا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس کل استنبول میں ہوگا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے (مکہ معاہدہ) کے تحت قائم کی گئی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس پیر کو ترکیہ کے شہر استنبول میں ہوگا، اجلاس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت شرکت کرے گی۔

وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اجلاس میں شرکت کریں گے،اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیاسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ترکیہ اور سعودی عرب کے حکام شریک ہوں گے

افتتاحی اجلاس میں ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل اسٹاف بھی شرکت کریں گے،اعلیٰ سطحی قیادت کی شرکت کے باعث اجلاس کو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سٹریٹجک تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مکہ معاہدہ خطے میں امن،سلامتی اور خوشحالی کے لیے ہے،وزیراعظم شہباز شریف

علاقائی سلامتی پر توجہ

اجلاس میں خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال، دفاعی تعاون اور باہمی سٹریٹجک روابط سے متعلق امور زیر بحث آنے کا امکان ہے،تینوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔

تاریخی تعلقات کی عکاسی

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی شرکت ترکیہ اور سعودی عرب جیسے برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے،وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور برادر ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔

دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کا عزم

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کو ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

استنبول میں ہونے والے اجلاس کے دوران پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی و دفاعی تعاون کو مزید آگے بڑھانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

editor

Related Articles