27 ستمبر کو متوقع مارچ سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر تنظیمی سطح پر اختلافات کا معاملہ کھل کر سامنے آگیا، پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اعتراف کیا ہے کہ پارٹی کی مختلف ونگز اور مرکزی تنظیم کے درمیان مکمل تعاون نہیں ہو رہا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہماری ونگز اور ہماری مدر باڈی آپس میں تعاون نہیں کر رہیں میں گزارش بھی کرتا ہوں اور تنبیہ بھی کرتا ہوں، یہ قابل قبول نہیں ہے۔
سلمان اکرم راجہ کے بیان کے بعد پی ٹی آئی کے اندر تنظیمی رابطوں اور باہمی تعاون سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں، ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کی مختلف سطحوں اور تنظیمی ونگز کے درمیان رابطے اور تعاون میں مسائل موجود ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کے مارچ کی تیاریوں کے تناظر میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اہمیت اختیار کرگئے ہیں، مارچ کی کامیابی کے لیے مرکزی قیادت کے ساتھ ساتھ مختلف ونگز اور مقامی تنظیموں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے پارٹی کے مختلف دھڑوں اور تنظیمی ونگز پر واضح کیا کہ باہمی عدم تعاون کو قبول نہیں کیا جاسکتا،انہوں نے ایک جانب پارٹی ارکان سے تعاون کی اپیل کی جبکہ دوسری جانب اسے تنبیہ بھی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے تمام تنظیمی ڈھانچوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ سیاسی سرگرمیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔
سلمان اکرم راجہ کے بیان نے پی ٹی آئی کے اندرونی نظم و ضبط، تنظیمی رابطوں اور آئندہ سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے بالخصوص 27 ستمبر کے مارچ سے قبل پارٹی کی مختلف سطحوں پر ہم آہنگی کو اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔