پانی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ کے مسائل، مصطفیٰ کمال نے بڑا اعلان کردیا

پانی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ کے مسائل، مصطفیٰ کمال نے بڑا اعلان کردیا

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کراچی میں بنیادی سہولیات کی خراب صورتحال، وسائل کی تقسیم، انتظامی ڈھانچے اور حکومتی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے 27 ستمبر کو سہراب گوٹھ میں جلسہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کراچی کے شہری طویل عرصے سے پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور اب ان مسائل کے حل کے لیے شہریوں کو متحد ہو کر اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے شہر کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو آج بھی صاف پانی کی فراہمی ایک اہم مسئلہ درپیش ہے اور شہر کے کئی علاقوں میں شہری بنیادی ضرورت کے لیے مشکلات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیاری کے عوام جس پانی سے استفادہ کر رہے ہیں اس کی فراہمی کے منصوبوں میں ماضی میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایم کیو ایم پنجاب کیلئے بجلی قیمتوں میں کمی کو کسی طور قبول نہیں کرے گی: سید مصطفی کمال

وفاقی وزیر نے سندھ میں مالی وسائل کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کو گزشتہ برسوں کے دوران بڑی مقدار میں مالی وسائل فراہم کیے گئے لیکن اس کے باوجود عوام کی زندگیوں میں بنیادی سہولیات کے حوالے سے وہ بہتری نظر نہیں آ رہی جس کی توقع کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے وسائل کو مؤثر اور شفاف انداز میں استعمال کیا جاتا تو سندھ کے عوام کو پانی، نکاسی آب، سڑکوں، صحت اور دیگر شعبوں میں نمایاں سہولتیں میسر آ سکتی تھیں۔

مصطفیٰ کمال نے حکمرانی کے موجودہ نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مسلسل سیاسی تقسیم اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کی سیاست نے عوام میں مایوسی اور بددلی پیدا کی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران عوام کو مختلف بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا رہا جس کے نتیجے میں شہری اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے متحد ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے رہے۔

مصطفی کمال نے کراچی کے انتظامی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ لاہور کو ایک ضلع کی حیثیت حاصل ہے جبکہ کراچی کو سات اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ بہتر انتظام اور شہری مسائل کے حل کے لیے اس مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پمز اسپتال واقعہ کی بڑی وجہ بتا دی

مصطفیٰ کمال نے کراچی میں سیوریج کے مسائل اور کھلے گٹروں کے باعث ہونے والے حادثات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جن میں بچے کھلے گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی ماں کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال تصور نہیں کی جا سکتی کہ اس کا بچہ ناقص شہری انتظامات کے باعث زندگی سے محروم ہوجائے۔

انہوں نے پانی کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے ٹینکرز سے پیش آنے والے حادثات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ٹینکرز پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات یہی ٹینکرز ٹریفک حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع شہری نظام کی کمزوری اور انتظامی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :بیوروکریٹک نظام میں تبدیلی کے بغیر مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں، مصطفیٰ کمال

ایم کیو ایم رہنما نے اپنی جماعت کے سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اب کراچی کے کسی ایک علاقے یا مخصوص طبقے تک محدود نہیں رہی۔ ان کے مطابق سہراب گوٹھ، لیاری، کٹی پہاڑی، لیاقت آباد اور اورنگی سمیت کراچی کے مختلف علاقوں کے شہریوں کے مسائل ان کی جماعت کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے تمام شہریوں کو بلا تفریق بنیادی سہولیات اور بہتر شہری نظام فراہم ہونا چاہیے۔

editor

Related Articles