الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کے انٹرا پارٹی انتخابات کو تسلیم کرتے ہوئے پارٹی کے نئے عہدیداران کی منظوری دے دی ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صاحبزادہ محمد حسن رضا بلامقابلہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔
انٹرا پارٹی انتخابات کے نتائج کے بعد پارٹی کی قیادت میں تبدیلی عمل میں آئی ہے، جبکہ دیگر عہدیداران بھی بلامقابلہ منتخب قرار دیے گئے ہیں،الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے انٹرا پارٹی انتخابات کے نتائج کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے،نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے تمام 8 عہدوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے، جن میں چیئرمین، وائس چیئرمین، جنرل سیکرٹری سمیت دیگر عہدے شامل ہیں۔
نئی قیادت کا اعلان
الیکشن کمیشن کے مطابق صاحبزادہ محمد حسن رضا سنی اتحاد کونسل کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے ہیں، جبکہ صاحبزادہ محمد محسن رضا کو وائس چیئرمین مقرر کیا گیا ہے،اسی طرح سید محمد جواد حسن کو پارٹی کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا ہے، دیگر عہدیداران بھی انٹرا پارٹی انتخابات کے ذریعے بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے۔
انٹرا پارٹی انتخابات کب ہوئے؟
سنی اتحاد کونسل کے انٹرا پارٹی انتخابات 12 اپریل 2026 کو منعقد ہوئے تھے، جن میں پارٹی کے نئے عہدیداران کا انتخاب کیا گیا،انتخابات کے بعد نتائج الیکشن کمیشن کو بھجوائے گئے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کو تسلیم کرتے ہوئے نئے عہدیداران کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
سابق چیئرمین حامد رضا نااہل
سنی اتحاد کونسل کے پہلے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا تھے، تاہم 9 مئی کے مقدمات میں سزا کے باعث وہ نااہل قرار دیے گئے تھے،حامد رضا کی نااہلی کے بعد پارٹی میں قیادت کی تبدیلی کی ضرورت پیش آئی، جس کے نتیجے میں نئے انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔
پارٹی معاملات میں نئی پیش رفت
الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کیے جانے کے بعد سنی اتحاد کونسل کے تنظیمی معاملات میں وضاحت پیدا ہوگی اور نئی قیادت پارٹی امور کو آگے بڑھائے گی۔