الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سیاسی جماعت عوام پاکستان کو انٹرا پارٹی انتخابات مقررہ مدت میں منعقد نہ کرانے پر رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی فہرست سے خارج کردیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عوام پاکستان پارٹی نے قانون کے تحت مقررہ مدت کے اندر انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے جس پر الیکشن ایکٹ کی متعلقہ شقوں کے تحت کارروائی کرتے ہوئے جماعت کو ڈی لسٹ کردیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ملک میں تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کیلئے قانون کے مطابق مقررہ مدت میں انٹرا پارٹی انتخابات کرانا لازمی ہے۔ جو جماعتیں اس قانونی تقاضے کو پورا نہیں کرتیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔
عوام پاکستان پارٹی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور دیگر رہنماؤں نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی کے بعد قائم کی تھی۔ پارٹی کے قیام کا مقصد ملک میں ایک نئی سیاسی متبادل قوت کو سامنے لانا اور روایتی سیاسی طرز عمل سے ہٹ کر عوامی مسائل کو ترجیح دینا قرار دیا گیا تھا۔
پارٹی میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے بھی شمولیت اختیار کی تھی۔ تاہم پارٹی کے قیام کے بعد اسے کسی بڑی سیاسی شخصیت کی نمایاں شمولیت حاصل نہیں ہوسکی۔
عوام پاکستان پارٹی اپنے سیاسی مؤقف میں خود کو ایک عوامی سیاسی تحریک قرار دیتی رہی ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایک خوشحال، منصفانہ اور جامع پاکستان کی تعمیر ہے۔
پارٹی کے مطابق شفافیت، جوابدہی اور ثبوت پر مبنی پالیسی سازی اس کے بنیادی اصول ہیں جبکہ سیاسی نعروں کے بجائے عملی حل اور ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینا اس کے منشور کا حصہ ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جماعت کو ڈی لسٹ کیے جانے کے بعد عوام پاکستان پارٹی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کے فیصلے اور اس کے بعد جماعت کی جانب سے آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے مزید پیش رفت سامنے آنا باقی ہے۔
یاد رہے کہ عوام پاکستان پارٹی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سمیت دیگر رہنماؤں نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی کے بعد قائم کی تھی۔