وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ کابینہ نے پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار 455 میٹرک ٹن گندم خریدنے اور صوبے میں گندم کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے جامع منصوبے کی منظوری دے دی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ حکومت ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے مزید 3 لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم خریدے گی۔
کابینہ نے پاسکو سے حاصل ہونے والی گندم کی صوبے میں ترسیل کے انتظامات کی بھی منظوری دے دی،پاسکو سے حاصل ہونے والی ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم کراچی منتقل کی جائے گی، جبکہ 30 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم حیدرآباد اور جامشورو منتقل ہوگی۔
ذخائر برقرار رہیں گے
شہید بینظیرآباد اور سانگھڑ کے پاسکو گوداموں میں موجود گندم کا ذخیرہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاسکو کے موجودہ ذخائر سے شہید بینظیرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔
23 ارب سے زائد جاری
محکمہ خزانہ گندم کی خریداری کے لیے 23 ارب 13 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کرچکا ہے، جبکہ گندم کی ترسیل کے اخراجات کے لیے 2 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں۔
سندھ کابینہ نے درآمدی گندم کی خریداری کے لیے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ٹی سی پی اور سندھ حکومت کے درمیان سہ فریقی معاہدے کی بھی منظوری دے دی۔
سندھ بینک سے فنانسنگ
کابینہ نے سندھ بینک سے کموڈیٹی فنانسنگ کے ذریعے درآمدی گندم کی پیشگی ادائیگیوں کی منظوری بھی دی،اجلاس میں درآمدی گندم کی پیکنگ کے لیے باردانہ یعنی پی پی بیگز خریدنے کی منظوری دے دی گئی۔
یومیہ ہدف مقرر
بندرگاہ سے درآمدی گندم اٹھانے کا یومیہ ہدف 5 ہزار میٹرک ٹن مقرر کیا گیا ہے،کابینہ نے خوراک سے متعلق ذیلی کمیٹی کو درآمدی گندم کی حتمی لینڈڈ کاسٹ کی منظوری دینے کا اختیار دے دیا۔
گندم کا معیار منظور
سندھ کابینہ نے جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس کی تجویز کردہ گندم کے معیار کی بھی منظوری دے دی،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ گندم کی بلاتعطل دستیابی اور اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی خریداری اور درآمد کا مقصد صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جبکہ سندھ میں گندم کی وافر دستیابی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت صوبے میں گندم کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔