عمران خان کو جیل بیرک سے کہاں شفٹ کر دیا گیا؟ صحافی حماد حسن کا تہلکہ خیز انکشاف

عمران خان کو جیل بیرک سے کہاں شفٹ کر دیا گیا؟ صحافی حماد حسن کا تہلکہ خیز انکشاف

معروف صحافی حماد حسن نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل کی بیرک سے نکال کر جیل سپرنٹنڈنٹ کی رہائش گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ منتقلی مبینہ طور پر 2 اگست کو عمل میں آئی، جس کے بعد انہیں اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل کے اندر ایک گھر جیسی سہولیات میسر آ گئی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وائرل ویڈیو میں صحافی حماد حسن کے تہلکہ خیز دعوے کے مطابق عمران خان اب اس مخصوص بیرک میں موجود نہیں ہیں جہاں وہ گزشتہ ڈھائی 3 سال کے طویل عرصے سے قید کاٹ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان اور بشری بی بی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بڑی خوشخبری آ گئی،بڑا فیصلہ جاری

حماد حسن نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل یعنی 2 اگست کو انہیں اڈیالہ جیل کے احاطے میں ہی موجود ایک چھوٹے بنگلے یا گھر میں شفٹ کر دیا گیا ہے جو عام طور پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے زیرِ استعمال رہتا ہے۔ اس اقدام سے بانی پی ٹی آئی کو قید کے دوران قدرے بہتر اور آرام دہ ماحول میسر آ گیا ہے۔

بشریٰ بی بی کی ہمراہی اور سہولیات میں اضافہ

حماد حسن نے ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ اس نئی رہائش گاہ میں عمران خان تنہا نہیں ہیں، بلکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی ان کے ہمراہ اسی گھر میں موجود ہیں یا کم از کم انہیں وہاں تک مکمل رسائی دی گئی ہے۔

حماد حسن کا کہنا تھا کہ گو کہ پچھلی بیرک بھی اتنی چھوٹی نہیں تھی، لیکن ’جیل بہرحال جیل ہوتی ہے‘ اور اب ایک باقاعدہ گھر میں منتقلی سے ان کی مشکلات میں واضح کمی آئی ہے اور انہیں باقاعدہ ایک سہولت فراہم کی گئی ہے۔

بیک ڈور رابطے اور سیاسی پیش رفت

حماد حسن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس اہم ڈیویلپمنٹ کے پیچھے کچھ محرکات ہیں؟ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے حماد حسن نے اشارہ دیا کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطے کسی حد تک نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں:عمران خان کو خاندان سے رابطے اور طبی سہولیات حاصل ہیں، سی این این کی اینکر بیکی اینڈرسن نے تفصیلات شیئر کردیں

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران سپریم کورٹ کے اہم فیصلے اور دیگر معاملات بھی آگے بڑھے ہیں، جن کے ثمرات اس نرمی کی صورت میں دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس ریلیف کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملکی سیاست میں فوری طور پر کوئی ’ڈراسٹک چینج‘ یا بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔

عمران خان گزشتہ ایک طویل عرصے سے مختلف مقدمات میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے ہی ان کی رہائش، سیکیورٹی اور انہیں ملنے والی سہولیات پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں مسلسل بحث جاری رہی ہے۔

جیل مینوئل کے تحت سابق وزرائے اعظم کو ’بی کلاس‘ یا بہتر سہولیات دی جاتی ہیں، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے اکثر یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ ان کے قائد کو بنیادی انسانی حقوق اور سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان شدید سیاسی تناؤ کے باوجود کچھ بیک ڈور رابطوں کی خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں، جو مبینہ طور پر اس حالیہ نرمی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہیں۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان رابطوں کا ذکر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سیاست کے بند دروازوں میں بھی اب بات چیت کی کوئی نہ کوئی کھڑکی کھلی رکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:معتبر عالمی ذرائع ابلاغ نے عمران خان کی قید تنہائی اور تشدد سے متعلق پی ٹی آئی کا بیانیہ حقائق کے خلاف قرار دیدیا

اگرچہ اس کا یہ مطلب نکالنا قبل از وقت ہوگا کہ عمران خان کی فوری رہائی ممکن ہے یا کوئی بڑی سیاسی ڈیل ہو چکی ہے، لیکن یہ اگر عمران خان کہ یہ ریلیف دیا گیا ہے تو یہ ایک ’اعتماد سازی کے اقدام‘ کے طور پر ضرور دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ نرمی کسی بڑے سیاسی بریک تھرو کی بنیاد بنے گی، یا محض جیل کی چار دیواری تک محدود ایک عارضی سہولت ثابت ہوگی۔

Related Articles