معتبر بین الاقوامی میڈیا اداروں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی جیل میں قید تنہائی، مبینہ تشدد اور طبی مسائل سے متعلق پارٹی بیانیے کو تمام تر حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
عالمی صحافتی اداروں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکومتِ پاکستان اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کا پیش کردہ مؤقف ہی درست اور واقعی حقائق پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔ تمام عالمی ذرائع ابلاغ نے عمران خان کے حوالے سے گردش کرنے والی ایسی تمام خبروں کو محض قیاس آرائی قرار دیا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کی متفقہ رپورٹنگ
دنیا کے اعلیٰ ترین اور معتبر ترین اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں، جن میں واشنگٹن پوسٹ، دی گارڈین، سی این این، ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)، روئٹرز، اے ایف پی اور دی کینیڈین پریس شامل ہیں، نے اپنے حالیہ تجزیوں اور رپورٹس میں حکومتِ پاکستان کے مؤقف کو کھل کر بیان کیا ہے۔
عالمی میڈیا اداروں نے لکھا ہے کہ عمران خان کو درپیش مبینہ سختیوں کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبریں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ان مؤقر اداروں نے واشگاف الفاظ میں حکومت پاکستان کے مؤقف کو بیان کیا اور لکھا کہ پی ٹی آئی کا پیش کردہ بیانیہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
حکومتی مؤقف اور وزارتِ اطلاعات کے بیان کی صحافتی تائید
بین الاقوامی اداروں نے اپنی رپورٹس میں پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ وضاحتوں کو بنیادی مراجع کے طور پر شامل کیا ہے۔
عالمی صحافیوں کے مطابق، جیل کے اندر سہولیات اور قیدی کے حقوق کی فراہمی سے متعلق حکومتی مؤقف زیادہ شفاف اور قرینِ قیاس ہے۔
اس تائید کے بعد پی ٹی آئی کے عالمی سطح پر قائم کردہ اس بیانیے کو شدید دھچکا پہنچا ہے جو وہ گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی برادری میں پیش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
جیل کی شرائط اور سیاسی محاذ آرائی
بانی پی ٹی آئی عمران خان متعدد مقدمات کے سلسلے میں جیل میں قید ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور وکلا کی جانب سے وقتاً فوقتاً یہ خدشات اور دعوے ظاہر کیے جاتے رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، ان کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے اور انہیں بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
تاہم حکومتِ پاکستان ہمیشہ سے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتی آئی ہے اور اس کا موقف رہا ہے کہ جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق تمام ضروری، بلکہ اضافی سہولیات بھی عمران خان کو فراہم کی گئی ہیں۔
بین الاقوامی محاذ پر بیانیے کی شکست
عالمی میڈیا کے اس مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی داخلی سیاست اور بین الاقوامی صحافتی اصولوں کے درمیان ایک بڑا واضح فرق موجود ہے۔ پی ٹی آئی کا مقصد بین الاقوامی برادری کی ہمدردیاں حاصل کرنا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحرک کرنا تھا، لیکن غیر جانبدار عالمی اداروں کی اس رپورٹنگ نے اس تکنیک کی تاثیر کو کم کر دیا ہے۔
صحافتی برادری میں کسی بھی دعوے کی تصدیق کے لیے شواہد اور غیر جانبدارانہ مشاہدہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی میڈیا نے جذباتی بیانات اور سیاسی الزامات پر انحصار کرنے کے بجائے حقائق کو ترجیح دی ہے، جس کی وجہ سے حکومتی مؤقف کو عالمی سطح پر تقویت ملی ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے بنایا گیا بیانیہ اس وقت تک عالمی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس کے ساتھ ناقابلِ تردید شواہد موجود نہ ہوں۔
اس رپورٹنگ کے بعد پی ٹی آئی کے لیے عالمی صحافتی حلقوں میں اپنے مؤقف کی دوبارہ تائید حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ اور کینیڈین پریس کی 21 اگست کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت نے عمران خان کے اہل خانہ اور جماعت کی جانب سے ‘ظلم، ذہنی اذیت، تعزیری قیدِ تنہائی اور طبی غفلت’ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
وزارت اطلاعات نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں سزا یافتہ قیدی کی حیثیت سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات جیل اور طبی ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا اور انہیں اہل خانہ، وکلا اور ڈاکٹروں سے رابطے کے مواقع حاصل رہے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان کے جیل میں قیام کے دوران 900 سے زیادہ ملاقاتیں ہوچکی ہیں، جبکہ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا، ورزش اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جاتی رہی ہیں۔
طبی معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے
عمران خان کی صحت کا معاملہ اس تنازع کا سب سے حساس پہلو بن چکا ہے۔ رواں برس ان کی دائیں آنکھ کی بینائی سے متعلق تشویش سامنے آئی تھی۔ عمران خان کے اہل خانہ اور جماعت کی جانب سے بینائی میں نمایاں کمی کے دعوے کیے گئے، جبکہ حکام نے بعد ازاں طبی معائنے کی بنیاد پر صورتحال میں بہتری کا مؤقف اختیار کیا۔
حالیہ عدالتی کارروائی اسی پس منظر میں ہوئی۔ 18 اگست کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان کو اسلام آباد کے نجی اسپتال میں طبی معائنے کے لیے منتقل کیا جائے اور طبی بورڈ میں ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ ان کے ذاتی معالج کو بھی شامل کیا جائے۔ عدالت نے اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کی اجازت دینے کی بھی ہدایت کی۔
بعد ازاں حکومت نے نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ حکومت کا استدلال تھا کہ قیدیوں کے لیے طبی سہولتوں کے معاملے میں امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور نجی اسپتال میں علاج کی اجازت سے دیگر قیدیوں کے لیے بھی اسی نوعیت کے مطالبات کا راستہ کھل سکتا ہے۔
شفا کے بجائے سرکاری اسپتال منتقلی
20 اگست کو عمران خان کو نجی اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا۔ حکومت نے اس فیصلے کو سیاسی نہیں بلکہ سیکیورٹی سے متعلق فیصلہ قرار دیا۔
حکومتی وضاحت کے مطابق عمران خان کے اسپتال منتقل کیے جانے کے موقع پر سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ ہجوم کے خدشات کو مدنظر رکھا گیا۔ طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ سرکاری حکام نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں طبی اعتبار سے فِٹ قرار دیا۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پی ٹی آئی نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور توہین عدالت کی کارروائی کا اعلان کیا۔
رائٹرز کے مطابق پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو عدالت کے حکم کے مطابق نجی اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔