افغان سفیر سردار احمد شکیب کے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) میں حالیہ خطاب کے تناظر میں دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد محمود کی گفتگو پاک افغان تعلقات کے موجودہ سکیورٹی اور سفارتی حقائق کا ایک گہرا جائزہ پیش کرتی ہے، ان کی گفتگو کا بنیادی محور یہ ہے کہ پاکستان سفارتی محاذ پر لچک دکھا رہا ہے، لیکن کابل کی جانب سے دہشت گردی کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کا فقدان تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
این ڈی یو کی دعوت اور سفارتی پیغام
میجر جنرل (ر) زاہد محمود کے مطابق افغان سفیر کو پاکستان کے سب سے بڑے تھنک ٹینک اور عسکری ادارے میں مدعو کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ریاستِ پاکستان افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے میں سنجیدہ ہے تاہم ان کی دلیل ہے کہ اس خیر سگالی کا جواب افغان سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے سے روک کر دیا جانا چاہیے۔
شواہد کا مطالبہ بمقابلہ حقائق
افغان سفیر کے اس بیان پر کہ ’پاکستان دہشت گردی کے شواہد دےمقرر نے سخت تنقید کی ہے، میجر جنرل (ر) زاہد محمود کی دلیل ہے کہ پاکستان متعدد بار ڈوزیئرز، ٹیلی فون کالز کا ریکارڈ اور دیگر ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کر چکا ہے، پاکستان میں ہونے والے ہائی پروفائل حملوں میں افغان شہریوں اور افغان سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔
اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کے تصور کی نفی
ایک عام تاثر کو مسترد کرتے ہوئے میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں کسی قسم کی ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کی ضرورت نہیں ہے،پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اس کی جوہری صلاحیت ہی اس کی سب سے بڑی اسٹریٹجک ڈیپتھ ہے ،ماضی میں پاکستان کی جانب سے افغان گروہوں کی حمایت کا مقصد صرف پڑوسی ملک میں استحکام لانا تھا۔
بھارت اور اسرائیل کے طریقہ کار کی تقلید
گفتگو کا ایک انتہائی اہم اور تشویشناک پہلوجو میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے افغان طالبان کے بیانیے سے متعلق بیان کیا ہے کہ افغانستان اب بھارت اور اسرائیل کے پالیسی سازوں کے زیرِ اثر اسی طرز کا بیانیہ اپنا رہا ہے،یعنی ایک طرف دہشت گردی کی سرپرستی کرنا اور دوسری طرف خود کو مظلوم (Self-Victimization) ظاہر کرنا۔
ثقافتی تشخص کی تباہی
مقرر نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ افغانستان کی شاندار روایات اور ثقافت اب عالمی سطح پر دہشت گردی کے ٹیگ کے پیچھے چھپ گئی ہے، ان کا خدشہ ہے کہ اس منفی تشخص کی وجہ سے دنیا بھر (برطانیہ، آسٹریلیا، اور پڑوسی ممالک) سے افغان شہریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔
میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے یہ بھی واضح کیا کہ دنیا کے مختلف ممالک (جیسے چین اور روس) اگر افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں، تو اس کی وجہ ان کی افغان پالیسیوں کی تائید نہیں ہے۔ چین تجارتی راہداریوں (جیسے ارمچی ڈائیلاگ) کے لیے دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ روس کو داعش (ISIS-K) اور ای ٹی آئی ایم (ETIM) جیسی تنظیموں سے خطرہ ہے۔
یہ ممالک صرف اس لیے رابطے میں ہیں تاکہ افغانستان کو ایک غیر معمولی (Abnormal) ریاست سے نکال کر کسی تنظیمی ڈھانچے کے ماتحت لایا جا سکے،میجر جنرل (ر) زاہد محمود کا یہ تجزیہ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ پاکستان کے عسکری اور تزویراتی حلقوں میں اب افغانستان کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔
ان کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سفارتی فورمز کی فراہمی ایک موقع ضرور ہے، لیکن ریاستی سطح پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ اب افغانستان سے کھوکھلے وعدوں کے بجائے ٹی ٹی پی کے خلاف ٹھوس اور عملی کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے۔
مقرر کی باتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جب تک کابل دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کرتا، دو طرفہ تعلقات اور عالمی سطح پر افغانستان کی تنہائی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔