2 ہزار روپے کے چالان نے ایک ماں کی گود اجاڑ دی، میرے بیٹے کو انصاف دلایا جائے،والدہ کی دہائی

2 ہزار روپے کے چالان نے ایک ماں کی گود اجاڑ دی، میرے بیٹے کو انصاف دلایا جائے،والدہ کی دہائی

صوبائی دارالحکومت میں گزشتہ روز ٹریفک وارڈن کی مبینہ غلطی کے باعث موٹر سائیکل سوار نوجوان کی جان چلی گئی، حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آنے کے بعد واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شادمان کے علاقے میں ایک ٹریفک وارڈن موٹر سائیکل سوار کو روکنے کیلئے اچانک دوڑ کر موٹر سائیکل کے سامنے آنے کی کوشش کرتا ہے۔

فوٹیج کے مطابق اسی دوران موٹر سائیکل سوار کا سر ٹریفک وارڈن سے ٹکرا گیا، جس کے بعد نوجوان موٹر سائیکل پر قابو نہ رکھ سکا اور فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا۔

حادثے کے نتیجے میں زین نامی نوجوان شدید زخمی ہوگیا، جسے علاج کیلئے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا،زین ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا، تاہم شدید چوٹوں کے باعث جانبر نہ ہوسکا اور دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں :غلط ای چالان کے خلاف اپیل کیسے کی جائے ؟جانیے آسان طریقہ

واقعے کے بعد لواحقین کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر معاملہ صرف 2 ہزار روپے کے چالان کا تھا تو نوجوان کو روکنے کیلئے ایسا طریقہ کیوں اختیار کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہوگئی؟کیا ایک چالان کی رقم انسانی جان سے زیادہ اہم ہے؟ کیا صرف 2 ہزار روپے کے چالان کیلئے کسی شہری کی زندگی خطرے میں ڈالی جاسکتی ہے؟

جاں بحق نوجوان کی والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میرے بیٹے کو مارا ہے، مجھے انصاف دلایا جائےغم سے نڈھال والدہ کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا ہسپتال میں پانچ روز تک زندگی کی جنگ لڑتا رہا، مگر بالآخر وہ انہیں ہمیشہ کیلئے چھوڑ گیا۔

حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد واقعے نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں، شہریوں اور لواحقین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوٹیج کی روشنی میں واقعے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی اہلکار کی غفلت یا غلطی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

زین کی والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے واقعے کا نوٹس لینے اور انہیں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کا نقصان ناقابل تلافی ہے، تاہم ذمہ داروں کا تعین اور قانون کے مطابق کارروائی ہی انہیں کچھ حد تک انصاف کا احساس دلا سکتی ہے۔

واقعے نے یہ بنیادی سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کراتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے اور اگر قانون نافذ کرنے کے طریقہ کار ہی سے کوئی قیمتی انسانی جان ضائع ہوجائے تو اس کا جواب دہ کون ہوگا؟

editor

Related Articles