نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاک آئیڈینٹیٹی موبائل ایپ کا نیا ورژن 5.7.4 جاری کردیا ہے، جس میں شہریوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے شناختی خدمات کو مزید آسان اور ڈیجیٹل بنانے کے لیے متعدد نئی سہولتیں شامل کی گئی ہیں۔
نادرا کے ترجمان سید شباہت علی کے مطابق نئے ورژن میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے متعلق شکایات آن لائن درج کرانے، فیملی ریکارڈ میں فرد کا نام شامل کرنے، دستخط اپ لوڈ کرنے اور ڈیجیٹل شناختی دستاویزات سمیت مختلف نئے فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں۔
نئے ورژن میں ایف آئی اے سے متعلق شکایات کے لیے علیحدہ سیکشن بھی شامل کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے ضروری انتظامات مکمل ہونے کے بعد شہری پاک آئیڈینٹیٹی ایپ کے ذریعے اپنے مسائل سے متعلق شکایت درج کرا سکیں گے اور اس کی پیش رفت بھی آن لائن دیکھ سکیں گے۔ اس سہولت کے بعد شکایت کے اندراج کے لیے ایف آئی اے کے دفتر یا متعلقہ تھانے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ایپ میں فیملی ریکارڈ کی درستگی اور تکمیل کے عمل کو بھی مزید آسان بنایا گیا ہے۔ اگر کسی فرد کے پاس شناختی کارڈ موجود ہے لیکن اس کا نام خاندان کی فہرست میں شامل نہیں، تو شہری ایپ کے ذریعے اسے فیملی ڈیٹا میں شامل کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں۔
نادرا کے مطابق مطلوبہ معلومات اور دستاویزات فراہم کرنے کے بعد درخواست منظور ہونے کی صورت میں متعلقہ فرد کو فیملی کمپوزیشن میں شامل کرلیا جائے گا۔ اس کے بعد نئے ریکارڈ کے مطابق فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی) دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔
اگر متعلقہ فرد کا شناختی کارڈ ہی موجود نہیں تو اس کا نام ایف آر سی میں شامل کیا جاسکتا ہے، تاہم ایسی شمولیت صرف اسی ایف آر سی تک محدود ہوگی اور نادرا کے مستقل فیملی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گی۔
دستخط اپ لوڈ کرنے کی سہولت
نادرا نے ایپ میں دستخط اپ لوڈ کرنے کے طریقہ کار میں بھی بہتری کی ہے۔ نئے ورژن میں آسپیکٹ ریشو کراپنگ کی سہولت شامل کی گئی ہے، جس کے ذریعے دستخط اسکرین کے عین درمیان نہ ہونے یا ان کا سائز چھوٹا ہونے کی صورت میں ایپ انہیں خودکار طور پر فوکس کرکے کراپ کرے گی۔
نادرا کے مطابق اس فیچر سے دستخط اپ لوڈ کرتے وقت ان کے کٹنے یا درست انداز میں محفوظ نہ ہونے کے امکانات کم ہوں گے۔
پاک آئیڈینٹیٹی ایپ میں پہلے سے دستیاب سہولتوں میں جانشینی سرٹیفکیٹ اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کی تصدیق بھی شامل ہے۔ شہری ایپ کے ہوم پیج پر موجود متعلقہ آپشن کے ذریعے ان دستاویزات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔
نادرا کے مطابق تصدیق کا عمل چند منٹ میں مکمل کیا جاسکتا ہے، جبکہ اس حوالے سے تفصیلی رہنمائی کے لیے ویڈیو بھی نادرا کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل شناختی دستاویز
نئے ورژن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل شناختی دستاویز کی سہولت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ نادرا کے مطابق شناختی کارڈ، نائیکو یا پاکستان اوریجن کارڈ کی درخواست منظور ہونے کے بعد پرنٹ شدہ دستاویز کی وصولی تک انتظار کے عرصے کو کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل ریکارڈ اور ڈیجیٹل آئی ڈی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
نادرا کے مطابق شناختی دستاویز کی پرنٹنگ اور تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد اس کی ڈیجیٹل شکل پاک آئیڈینٹیٹی ایپ میں دستیاب ہوگی۔ یہ سہولت پاکستان یا بیرون ملک سے جمع کرائی گئی درخواستوں، دونوں صورتوں میں حاصل کی جاسکے گی۔
نادرا کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو ڈیجیٹل شناختی دستاویزات اور ڈیجیٹل آئی ڈی کی قانونی حیثیت اور قبولیت سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے، تاکہ شہری شناخت کی تصدیق کے لیے ان سہولتوں سے استفادہ کرسکیں۔
نادرا کے مطابق پاک آئیڈینٹیٹی ایپ کا نیا ورژن شناختی خدمات کو مزید ڈیجیٹل، تیز اور شہریوں کے لیے قابل رسائی بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔