این ڈی یو یونیورسٹی، افغان سفیر کی حرکت ثابت کرتی ہے کہ افغان طالبان دھوکہ دینے والا ایک گروہ ہے، ماہرین

این ڈی یو یونیورسٹی، افغان سفیر کی حرکت ثابت کرتی ہے کہ افغان طالبان دھوکہ دینے والا ایک گروہ ہے، ماہرین

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) میں افغان سفیر کے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی مختلف ویڈیوز اور تبصروں نے پاکستان کی افغانستان پالیسی میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔ تاہم یونیورسٹی میں کسی غیر ملکی سفیر یا دیگر شخص کی بطور مہمان مقرر شرکت کو پاکستان کی سرکاری خارجہ پالیسی میں تبدیلی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

این ڈی یو ایک تعلیمی ادارہ ہے جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو مہمان مقرر کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے خیالات اور نقطۂ نظر سے شرکا کو آگاہ کر سکیں۔ ماضی میں بھارتی سفیر سمیت مختلف سفارتی شخصیات بھی یونیورسٹی میں اپنے خیالات کا اظہار کر چکی ہیں۔

افغان طالبان حکومت کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف میں کسی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ پاکستان افغانستان میں موجود حکومتی انتظامیہ کو پاکستان ایک غیر قانونی، غیر جامع اور غیر نمائندہ نظام سمجھتا ہے اور اس کے طرزِ حکمرانی، خصوصاً دہشت گردی اور علاقائی سلامتی سے متعلق پالیسیوں پر شدید تحفظات رکھتا ہے۔

دوسری جانب این ڈی یو میں ہونے والی نشست کے حوالے سے Chatham House Rule کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس بین الاقوامی اصول کے تحت کسی اجلاس یا مباحثے میں شریک افراد وہاں ہونے والی گفتگو اور حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کر سکتے ہیں، تاہم عام طور پر مقرر یا شرکا کی شناخت اور اس بات کی نسبت ظاہر نہیں کی جاتی کہ کوئی مخصوص بات کس فرد نے، کس موقع پر کہی۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں غیرقانونی پابندیوں کے سبب خواتین خودکشی پر مجبور! عالمی جریدے نے طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیاں آشکارکردیں

افغان سفیر کی جانب سے نشست سے متعلق ویڈیوز یا تفصیلات سوشل میڈیا پر جاری کرنا مذکورہ اصول کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ تاہم اس حوالے سے یہ امر بھی اہم ہے کہ کسی مخصوص ویڈیو کی قانونی حیثیت، اس کی ریکارڈنگ کی اجازت اور Chatham House Rule کے اطلاق کی حتمی نوعیت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کسی سفیر کا کسی تعلیمی یا پالیسی ادارے میں خطاب اور کسی ملک کی سرکاری خارجہ پالیسی دو الگ معاملات ہیں۔ اس لیے این ڈی یو میں افغان سفیر کی شرکت کو ازخود پاکستان کی افغان پالیسی میں تبدیلی کا ثبوت قرار دینا صحافتی تجزیے کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

ماہرین کے مطابق افغان سفیر نے باہر آ کر یہ بیان دے کر اور غیر قانونی وڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ریلیز کر کے پھر ثابت کیا کہ یہ وہ مجہول العقل گروہ ہے جس کو نہ بین الاقوامی اصولوں کی پرواہ ہے اور نا ہی انسانیت و اخلاقیات کی۔ افغان سفیر کی یہ حرکت ثابت کرتی ہے کہ افغان طالبان ناقابل اعتماد، ناقابل اعتبار اور دغا و دھوکہ دینے والا ایک گروہ ہے۔

Related Articles