حکومت کا جماعت اسلامی سے رابطہ ، مذاکر ات کی پیشکش

حکومت کا جماعت اسلامی سے رابطہ ، مذاکر ات کی پیشکش

جماعت اسلامی کے ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کے معاملے پر حکومت نے سیاسی رابطوں کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی قیادت سے براہ راست مذاکرات کا فیصلہ کر لیا ہے۔

حکومتی وفد آج منصورہ میں جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے ملاقات کرے گا۔ ملاقات کا بنیادی مقصد جاری احتجاجی دھرنے کے خاتمے کے لیے بات چیت کرنا اور جماعت اسلامی کے مطالبات پر حکومتی مؤقف سے آگاہ کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے رانا ثنا اللہ اور احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا اور احتجاجی صورتحال پر مذاکرات کی پیشکش کی۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی میں رانا ثنا اللہ، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق شامل ہوں گے۔ حکومتی نمائندے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں احتجاجی تحریک، پیٹرولیم لیوی اور عوام کو درپیش مہنگائی کے مسائل سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

 یہ بھی پڑھیں :جماعت اسلامی کا 17 جنوری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومتی مذاکراتی پیشکش پر حتمی جواب دینے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت مانگا ہے۔ حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ مذاکرات لاہور، کراچی، اسلام آباد یا کسی بھی مناسب مقام پر کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت احتجاجی صورتحال کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے گزشتہ کئی ہفتوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے شدید دباؤ کا شکار ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں نے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی لائی جائے۔

جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کا آغاز 14 اگست کے بعد چاروں صوبوں میں دھرنوں سے ہوا۔ پارٹی قیادت نے اس احتجاج کو عوامی مسائل کے خلاف سیاسی مزاحمت قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

27 اگست کو جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان بھی کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے ہونے والی ہڑتال پُرامن ہوگی اور احتجاج کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے یا بدامنی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  یہ بھی پڑھیں : آج ملک گیر ہڑتال ،مطالبات نہ مانے گئے تو حکومت گرائو تحریک شروع کرینگے ، نعیم الرحمن 

حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے مطالبے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکن تاجروں اور مختلف طبقات سے رابطے کریں گے اور انہیں ملک گیر ہڑتال میں شرکت کے لیے قائل کیا جائے گا۔ انہوں نے خود بھی تاجر برادری سے ملاقاتوں کا اعلان کیا تھا۔

جماعت اسلامی کی قیادت پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق دھرنوں کے بعد لانگ مارچ، پہیہ جام اور دیگر جمہوری طریقہ کار بھی احتجاجی حکمت عملی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

اب حکومتی وفد اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کو موجودہ احتجاجی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مذاکرات میں اگر دونوں فریق کسی قابل قبول حل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو ملک کے مختلف شہروں میں جاری احتجاجی سرگرمیوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔

editor

Related Articles