جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار، افغانستان میں طالبان کے ساتھ ان کے تعلقات اور بھارت کی جانب سے ان کی پذیرائی کے حوالے سے سیاسی و سکیورٹی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فضل الرحمان کو بھارت سے قبل افغان طالبان کی جانب سے آگے بڑھایا گیا، جبکہ اب بھارت بھی انہیں سیاسی طور پر فروغ دینے میں دلچسپی لے رہا ہے۔
افغان طالبان کے مفادات میں یہ بات شامل ہوسکتی ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا میں ایسے سیاسی اور سماجی حالات پیدا ہوں جن سے ماضی کے اس نظام کی واپسی کی راہ ہموار ہوسکے جس میں طالبان کو خطے میں نمایاں اثر و رسوخ حاصل تھا۔
بھارت کی جانب سے پذیرائی
فضل الرحمان کے حوالے سے سامنے آنے والی بحث میں بھارت کے کردار کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ بھارت کی جانب سے فضل الرحمان کو ایک اہم سیاسی کردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش پاکستان کی داخلی سیاست کے تناظر میں قابلِ توجہ ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوا ہے اور مختلف علاقائی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرسکتی ہیں۔
طالبان سے تعلقات
فضل الرحمان ماضی میں افغانستان کے طالبان کے ساتھ اپنے روابط اور افغان امور پر اپنے مؤقف کے باعث بھی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ وہ افغانستان میں مختلف ادوار کے دوران طالبان قیادت سے ملاقاتیں اور رابطے کرتے رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہی پرانے روابط کی بنیاد پر افغان طالبان کے بعض حلقے فضل الرحمان کو پاکستان میں ایک مؤثر سیاسی کردار کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا پر توجہ
خیبر پختونخوا پاکستان اور افغانستان کے درمیان جغرافیائی، سیاسی اور سکیورٹی اعتبار سے انتہائی اہم خطہ ہے۔ افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کے براہِ راست اثرات بھی اکثر خیبر پختونخوا پر مرتب ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اگر کسی سیاسی شخصیت کو افغانستان کے مفادات کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مرکز خیبر پختونخوا کیوں نہ بن سکتا ہے، جہاں مذہبی، قبائلی اور سیاسی عوامل ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
پرانے نظام کی واپسی
اس حوالے سے سامنے آنے والی رائے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ افغان طالبان ایسے حالات کے خواہاں ہوسکتے ہیں جن سے پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں سابقہ نظام کی بحالی کی راہ ہموار ہو۔
ماضی کے اس نظام میں طالبان کو سرحدی علاقوں میں وسیع سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ حاصل تھا۔ اس دور میں غیر رسمی تجارت، سرحدی سرگرمیوں اور مختلف معاشی ذرائع سے طالبان اور ان سے وابستہ عناصر کو بڑے مالی فوائد بھی حاصل ہوتے رہے۔
مالی مفادات کا معاملہ
افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں طویل عرصے سے غیر رسمی تجارت اور دیگر معاشی سرگرمیاں موجود رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں نے مختلف گروہوں کو مالی فائدہ پہنچایا۔
ناقدین کا خیال ہے کہ افغانستان میں موجود بعض عناصر کے لیے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ماضی جیسی صورتحال کی واپسی معاشی اعتبار سے بھی فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ اسی لیے فضل الرحمان کے سیاسی کردار کو اس وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔