خیبرٹیچنگ ہسپتال پشاور کے بورڈ اف گورنرز نے من پسند افراد کو نوازتے ہوئے ہسپتال میں منیجرز یا دیگر عارضی پوسٹوں کو جو ابتدا میں عارضی، ٹینیور یا مارکیٹ بیسڈ تنخواہ پر رکھی گئی تھیں، انہیں 2022 کے ریگولیشنز کے ذریعے ریگولرm پوسٹوں میں تبدیل کردیا جبکہ ہسپتال کے انتظامی اہم عہدوں پر بھی مستقل ملازمین کے بجائے چند من پسند افراد کو تعینات کر کے نوازا جا رہا ہے۔ پالیسی بورڈ نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے شیڈول فائیو میں شامل پوسٹوں کو واپس کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔
جن پوسٹوں کو ریگولر کردیا گیا ہے ان میں سے منیجر ہیومن ریسورس، سپلائی چین، فیسلیٹیز، بائیومیڈیکل انجینئرنگ، میڈیا اینڈ پروٹوکول، فارمیسی، او پی ڈی، لانڈری اینڈ سی ایس ایس ڈی، او ٹی، آئی ٹی، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس، ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی، آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر اور سینیئر آڈیٹر سمیت متعدد پوسٹیں شامل ہیں۔
پالیسی بورڈ نے اعتراض کیا، پھر کیا ہوا؟
پالیسی بورڈ نے، جس کے چیئرمین ڈاکٹر نوشیروان برکی ہیں، خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کو خط لکھ کر بعض عہدوں کو شیڈول فور سے نکال کر شیڈول فائیو میں شامل کرنے اور انہیں مستقل کرنے پر اعتراض کیا۔ پالیسی بورڈ نے ہدایت کی کہ ان عہدوں کو دوبارہ سابقہ حیثیت میں لایا جائے۔ لیکن ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس ہدایت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
موجود دستاویزات کے مطابق حسام عامر کو اگست 2021 میں بورڈ سیکرٹری کے طور پر ایک لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ فکس تنخواہ پر تین سال کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ یعنی ان کی تقرری کی مدت اگست 2024 تک تھی۔ لیکن 2022 کے ریگولیشنز کے بعد ان کی ملازمت کو مستقل کردیا گیا۔ اسی طرح ہسپتال میں 2021 میں لیگل آفیسر کی پوسٹ پر ہارون سرفراز کو 60 ہزار روپے ماہانہ فکس تنخواہ پر تعینات کیا گیا۔ بعد ازاں 2022 کے ریگولیشنز میں اس پوسٹ کو لیگل آفیسر گریڈ 16 سے تبدیل کرکے منیجر لیگل گریڈ 18 کردیا گیا۔ اور انہیں وکالت کی پریکٹس نہ کرنے کیلئے الگ سے ایک لاکھ روپے ماہانہ الاونس بھی دیا جاتا ہے۔
اہم عہدے مستقل افسران کے بجائے اضافی ذمہ داریوں سے کیوں چل رہے ہیں؟
ایک طرف بعض انتظامی عہدوں کو مستقل کرنے کا معاملہ سامنے آتا ہے، تو دوسری طرف ہسپتال کے اہم انتظامی معاملات کو مستقل تقرری کے بجائے طبی افسران کو اضافی ذمہ داریاں دے کر چلایا جارہا ہے، جونیئر اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری ڈاکٹر سجاد داوڑ قائم مقام ہسپتال ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ ہسپتال کے قائمقام میڈیکل ڈائریکٹر رہے اس کے بعد وہ ایسوسی ایٹ ہسپتال ڈائریکٹر اور اب قائمقام ہسپتال ڈائریکٹر بھی ہے ساتھ میں اہم کمیٹی کے چیئرمین بھی ہے۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نثار کو ایسوسی ایٹ ہسپتال ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے جبکہ وہ آئی ٹی کے فوکل پرسن کی ذمہ داری بھی انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح ایسوسی ایٹ پروفیسر سرجری ڈاکٹر ارم صابر کے پاس ایسوسی ایٹ میڈیکل ڈائریکٹر کی ذمہ داری ہے۔ مذکورہ ڈاکٹرز کلینیکل کے ساتھ ساتھ انتظامی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں اور سب کی دونوں ذمہ داریاں فل ٹائم ہیں۔
ڈاکٹر مدیر اسسٹنٹ پروفیسر آرتھوپیڈکس ہیں اور ہسپتال میں ادارہ جاتی پریکٹس بھی شام کے وقت کرتے ہیں جس کا انہیں ماہانہ ایک لاکھ روپے الاونس بھی دیا جارہا ہے لیکن وہ آرتھوپیڈکس کی ایک مخصوص اسپیشلٹی میں ٹرینی میڈیکل آفیسر بھی ہیں تاہم رولز کے تحت ٹریننگ کے دوران کوئی دوسری ملازمت نہیں کی جا سکتی ہے لیکن ہسپتال انتظامیہ ان پر مہربان ہے۔
اس بابت ہسپتال کے بورڈ اف گورنر کے ممبرتیمور شاہ سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا تو دونوں نے جواب دینے سے معذرت کرلی جبکہ ہسپتال ترجمان سجاد کو سوالات بھیجے گئے تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے حکام بالا کو سوالات ارسال کئے ہیں تاہم ان کی جانب سے اجازت دینے کے بعد وہ جواب دیدیں گے.