پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، گولڈ اسمتھ خاندان عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگیا

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، گولڈ اسمتھ خاندان عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگیا

برطانوی سیاستدان اور عمران خان کے سابق برادرِ نسبتی زیک گولڈ اسمتھ نے دولتِ مشترکہ کے سیکر ٹری جنرل شرلی ایورکور بوچوے کو خط لکھ کر سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر حکومت پاکستان سے براہِ راست اور سخت انداز میں بات کرنے کی اپیل کی ہے۔

22 اگست 2026 کو لکھے گئے خط میں زیک گولڈ اسمتھ نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کے معاملے نے اب صرف ایک سیاسی یا قانونی تنازع کی حیثیت نہیں رکھی بلکہ یہ جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور قیدیوں کے انسانی سلوک سے متعلق دولتِ مشترکہ کے بنیادی اصولوں کے لیے بھی ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

سفارتی رابطوں کو ناکافی قرار دے دیا

زیک گولڈ اسمتھ نے خط میں لکھا کہ وہ عمران خان کا معاملہ برطانوی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ کئی مرتبہ اٹھا چکے ہیں انہیں امید تھی کہ مسلسل سفارتی رابطوں اور پاکستان کے اپنے عدالتی نظام کے ذریعے عمران خان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے گا، تاہم اب انہیں یہ طریقہ کار کافی نہیں لگ رہا۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے براہِ راست کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے رابطہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے منصب اور ادارے کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے اس معاملے پر بات کریں۔

سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کا حوالہ

زیک گولڈ اسمتھ نے خط میں 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم کا خاص طور پر ذکر کیا لکھا گیا کہ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مناسب طبی معائنہ اور علاج ہوسکے۔

خط کے مطابق عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے کے لیے ایک آزاد میڈیکل پینل بنانے کی ہدایت بھی کی تھی، جس میں دل کے ماہر، آنکھوں کے ڈاکٹر، جنرل فزیشن اور عمران خان کے ذاتی معالج کو شامل کیا جانا تھا۔

زیک گولڈ اسمتھ کے بقول سپریم کورٹ نے صرف طبی خلاصے کے بجائے مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کیا تھا اور یہ بھی واضح کیا تھا کہ مناسب طبی نگہداشت اور خاندان سے رابطہ عمران خان کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا بھی حوالہ

خط میں زیک گولڈ اسمتھ نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی جانب سے عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر گزشتہ ایک سال کے دوران سامنے آنے والے تحفظات کا بھی ذکر کیا،ان کے مطابق مذکورہ خصوصی نمائندے نے 12 دسمبر 2025، 11 فروری 2026 اور 26 جولائی 2026 کو عمران خان کے معاملے پر آواز اٹھائی تھی۔

شفا کے بجائے پمز منتقلی

زیک گولڈ اسمتھ نے خط میں دعویٰ کیا کہ 20 اور 21 اگست کی درمیانی رات عمران خان کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جانے کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا۔

ان کے مطابق وہاں رات کے وقت محدود نوعیت کا طبی معائنہ اور علاج کرنے کے بعد عمران خان کو طبی طور پر فٹ قرار دے کر فجر سے قبل واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

خط میں الزام عائد کیا گیا کہ عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر کو ان کا معائنہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، آزاد میڈیکل پینل تشکیل نہیں دیا گیا اور سپریم کورٹ کو بھی مطلوبہ مکمل طبی ریکارڈ فراہم نہیں کیے گئے۔

زیک گولڈ اسمتھ نے مزید لکھا کہ رپورٹس میں ایک مبینہ ’ڈیکائے کنوائے‘ کا بھی ذکر سامنے آیا، جسے شفا ہسپتال کی سمت روانہ کیا گیا تاکہ یہ تاثر پیدا ہو کہ عمران خان کو وہاں منتقل کیا جارہا ہے۔

زیک گولڈ اسمتھ نے واضح کیا کہ وہ اس موازنے کو کسی طبی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کررہے، تاہم ان کے بقول جب ایک سابق وزیراعظم کئی ماہ کی تنہائی کے بعد اپنی بہن کے سامنے اس کے اثرات کے بارے میں خدشات ظاہر کرے تو اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

خط میں عمران خان کے خاندان اور وکلا کو مبینہ طور پر درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے زیک گولڈ اسمتھ نے لکھا کہ ان کے مطابق عمران خان کے اہلخانہ اور قانونی نمائندوں تک رسائی پر پابندیاں، ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی میں مشکلات، طبی ریکارڈ کی شفافیت پر تنازعات اور صحت کے بارے میں تحفظات ایک طویل سلسلے کا حصہ ہیں۔

معاملہ سیاسی بحث سے آگے نکل گیا

زیک گولڈ اسمتھ نے خط میں کہا کہ عمران خان کی قید کے حوالے سے سیاسی اور قانونی اختلافات کو ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تو ایک بنیادی سوال باقی رہتا ہے کہ کیا کامن ویلتھ کے رکن ملک کے سابق منتخب وزیراعظم کو قانونی طریقہ کار، انسانی سلوک اور ملک کی عدلیہ کے احکامات کا مکمل تحفظ دیا جارہا ہے یا نہیں۔

زیک گولڈ اسمتھ نے سیکریٹری جنرل سے کہا کہ اگر کامن ویلتھ کے یہ اصول اس وقت سب سے زیادہ اہم ہیں جب کسی رکن ملک میں ان پر دباؤ آئے، تو ایسی صورتحال میں دولتِ مشترکہ کو ان اصولوں کے دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کامن ویلتھ سے 7 مطالبات

زیک گولڈ اسمتھ نے کامن ویلتھ سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ عمران خان کے معاملے کو براہِ راست اٹھائیں اور واضح یقین دہانیاں حاصل کریں کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اپنے قابلِ اعتماد ڈاکٹروں اور آزاد طبی ماہرین تک فوری اور مستقل رسائی دی جائے، مکمل طبی معلومات متعلقہ ڈاکٹروں اور عمران خان کی خواہش کے مطابق خاندان کو فراہم کی جائیں اور طویل قیدِ تنہائی ختم کی جائے۔

آخر میں زیک گولڈ اسمتھ نے سیکرٹری جنرل سے فوری جواب دینے اور یہ بتانے کی درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں کیا اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں،عمران خان کی رہائی کے لیے بیرونی لابی اور بعض شخصیات کی جانب سے کوششیں جاری ہیں، تاہم زیک گولڈ اسمتھ کے خط میں عائد کیے گئے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔

تصویر کا دوسرا رخ

اڈیالہ جیل حکام اور حکومت پاکستان متعدد مرتبہ واضح کرچکے ہیں کہ عمران خان کو جیل میں قانون اور قواعد کے مطابق تمام ضروری سہولیات، طبی نگہداشت اور دیگر بنیادی حقوق فراہم کیے جارہے ہیں۔

حکام کے مطابق انہیں حالیہ دنوں میں اپنی بہن سے عدالتی حکم کے تحت ملاقات کی اجازت بھی دی گئی، جس سے یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ قیدی کو اہلخانہ سے رابطے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے اورگولڈ اسمتھ خاندان کی طرف سے کامن ویلتھ کو لکھے گئے خط میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ حقیقت سے کوسوں دورہیں اور بے بنیاد اور پروپیگنڈہ ہیں ۔

editor

Related Articles