پمز آتشزدگی: مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو رعایت نہیں ملے گی، وزیراعظم

پمز آتشزدگی: مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو رعایت نہیں ملے گی، وزیراعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز اسپتال میں 26 اگست کو پیش آنے والی آتشزدگی کے واقعے میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو کسی قسم کی رعایت نہ دینے کا واضح اعلان کردیا۔

کرغزستان سے اسلام آباد واپسی پر وزیراعظم نے وزارت صحت کے امور اور پمز آتشزدگی کی تحقیقات کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، سیکریٹری صحت محمد محمود اور پمز کے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو شعبہ صحت سے متعلق امور اور پمز آتشزدگی کی تحقیقات میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر صحت اور سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ متبادل دنوں میں پمز اسپتال میں اپنی ذاتی موجودگی یقینی بنائیں اور ہسپتال کی بہتری کے لیے اقدامات کی خود نگرانی کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر محمد سلمان کو نئی ذمہ داری سونپ دی گئی، پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات

وزیراعظم نے پمز میں علاج معالجے کی سہولیات بہتر بنانے، تمام ضروری حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنانے اور شعبہ صحت میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔

پمز آتشزدگی کی وجوہات تاحال واضح نہ ہوسکیں

دوسری جانب پمز آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے واقعے کی وجوہات تاحال واضح نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے مطابق آگ لگنے کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، بعض حکام نے ایئرکنڈیشنر جبکہ بعض نے بجلی کی وائرنگ کو ممکنہ وجہ قرار دیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ آگ تقریباً 120 سیکنڈ میں پھیل گئی، تاہم تحقیقات کے باوجود آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔

پارلیمانی کمیٹی نے پمز کی انتظامیہ، ہنگامی ردعمل اور ریگولیٹری نگرانی پر بھی سوالات اٹھائے، جبکہ سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر کو کمیٹی کے سامنے طلب کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

اسلام آباد کے صحت کے نظام میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی

ادھر قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صحت نے اسلام آباد کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں بدانتظامی، بے ضابطگیوں اور مبینہ کرپشن کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیراعظم کو خصوصی رپورٹ پیش کردی۔

یہ بھی پڑھیں: پمز سانحہ؛ اپنی جان پر کھیل کر نومولود کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہ خدمت، ایک کروڑ انعام

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسلام آباد میں اس وقت کسی بھی اسپتال کے پاس مؤثر اور مناسب ہیلتھ کیئر لائسنس موجود نہیں۔ کمیٹی نے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کے مالی اور طبی آڈٹ، صحت کی سہولیات کی جغرافیائی میپنگ اور تمام طبی اداروں و ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کی لائسنسنگ یقینی بنانے کی سفارش کی۔

کمیٹی نے اسلام آباد میں طبی سہولیات کے اخراجات کی نگرانی کے مؤثر نظام کے فقدان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مریضوں سے زائد فیسوں کی وصولی روکنے کے لیے مؤثر مانیٹرنگ سسٹم بنانے کی سفارش کی۔ رپورٹ میں مفادات کے ٹکراؤ کا شکار ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے ارکان کو ہٹانے اور بنیادی مراکز صحت، دیہی مراکز صحت اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز کے آڈٹ کی بھی سفارش کی گئی۔

پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین نے پمز کی صورتحال پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ادارے کے مختلف شعبوں میں باہمی رابطے کا فقدان ہے اور بعض شعبے اپنے وسائل دوسرے شعبوں کو استعمال نہیں کرنے دیتے۔ کمیٹی نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے بتایا کہ اتھارٹی نے پمز کو لائسنس جاری نہیں کیا اور نہ ہی اسپتال کا دورہ کیا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے اتھارٹی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

Related Articles