اسلام آباد سمیت ملک بھر میں بارش ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سیلاب کا خطرہ ، ہائی الرٹ جاری

اسلام آباد سمیت ملک بھر میں بارش ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سیلاب کا خطرہ ، ہائی الرٹ جاری

ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشوں نے جل تھل کردیا ، کئی شہروں میں سڑکیں اور نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ،پنجاب کے بعض علاقوں میں سیلاب اور شہری علاقوں میں اربن فلڈ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب مون سون بارشوں اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں گلیشیائی جھیلوں کے ممکنہ پھٹنے سے اچانک سیلاب کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے حساس علاقوں کے لیے الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کردی ہے۔

اسلام آباد میں موسلادھار بارش، سڑکوں پر پانی جمع

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رات گئے تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا۔ مسلسل کئی روز سے جاری بارش کے بعد ہونے والی شدید بارش نے شہری علاقوں میں نکاسی آب کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

شدید بارش کے باعث بعض شاہراہوں اور نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تیز ہواؤں کے باعث بھی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ متعلقہ ادارے پانی کی نکاسی اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔

راولپنڈی میں بارشوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی

راولپنڈی میں بھی موسلا دھار بارش ۔ شہر میں گزشتہ دنوں ہونے والی غیر معمولی بارش کے باعث متعدد گلیاں اور سڑکیں پانی میں ڈوب گئی تھیں جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

شدید بارش کے دوران کئی مقامات پر گاڑیاں بھی پانی میں پھنس گئی تھیں۔ موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد میں متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور نشیبی علاقوں میں صورتحال کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔

سیالکوٹ، مالاکنڈ سمیت مختلف علاقوں میں بادل برس پڑے

اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ سیالکوٹ، مالاکنڈ اور گردونواح سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی۔ بارش کے باعث کئی علاقوں میں موسم خوشگوار ہوگیا تاہم مسلسل بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :راولپنڈی، اسلام آباد میں مسلسل دوسرے روز بارش،ندی نالوں میں طغیانی،رین ایمر جنسی نافذ

مالاکنڈ سمیت شمالی اور پہاڑی علاقوں میں بارشوں کے باعث مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

پنجاب کے بعض علاقوں میں سیلاب کا خدشہ

مسلسل بارشوں کے باعث پنجاب کے بعض علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ شدید بارش کی صورت میں کم وقت کے دوران بڑی مقدار میں پانی جمع ہونے سے نشیبی علاقوں، ندی نالوں اور شہری آبادیوں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

خاص طور پر ان علاقوں میں صورتحال زیادہ حساس ہوسکتی ہے جہاں نکاسی آب کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ متعلقہ اداروں کو بارش کے پانی کی فوری نکاسی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری مشینری اور عملہ تیار رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خطرہ، شمالی علاقوں میں الرٹ

دوسری جانب مون سون بارشوں اور بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔

حکام کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے اور بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلوں میں پانی کی سطح بڑھ سکتی ہے جس سے جھیلوں کے اچانک پھٹنے اور بڑے پیمانے پر پانی کے ریلے آنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پہاڑی آبادیوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔

گلگت بلتستان کے متعدد علاقے حساس قرار

این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان کے متعدد علاقوں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے حساس قرار دیا ہے۔ ان میں غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، اسکردو، گانچھے، کھرمنگ اور وادی نیلم شامل ہیں۔

ان علاقوں میں موسمی صورتحال، گلیشیائی جھیلوں اور پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی پر زور دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں مقامی آبادی کو بروقت خبردار کیا جاسکے۔

خیبرپختونخوا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

خیبرپختونخوا کے مختلف پہاڑی علاقوں میں بھی بارشوں کے باعث خطرات بڑھ گئے ہیں۔ چترال، اپر دیر، لوئر دیر، سوات، شانگلہ اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں سیلابی صورتحال کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

کوہستان اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بھی صورتحال پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ مسلسل بارشوں کے نتیجے میں پہاڑی ڈھلوانوں پر مٹی اور پتھروں کے کھسکنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے شاہراہوں اور دیگر مواصلاتی راستوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید بارشوں کی پیشگوئی، متعلقہ ادارے ہائی الرٹ

محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم سمیت مختلف علاقوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ بارشوں کے نئے سلسلے کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈ اور پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات برقرار رہنے کا امکان ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :شدید بارش ، نالہ لئی میں پانی کی سطح خطر ناک حد تک بلند ، شہریوں کو انخلااء کا حکم

متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے، نشیبی علاقوں کی نگرانی بڑھانے اور نکاسی آب کے انتظامات مؤثر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شہریوں کو احتیاط کی ہدایت

حکام نے شہریوں کو شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ندی نالوں، دریاؤں، نشیبی علاقوں اور پانی جمع ہونے والی سڑکوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کے خطرے کے پیش نظر غیر معمولی موسمی صورتحال میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

موجودہ صورتحال میں ایک طرف ملک کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارشوں کے باعث اربن فلڈ کا خطرہ بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب شمالی پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے ممکنہ پھٹنے سے سیلابی ریلوں کا خدشہ بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رکھتے ہوئے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles