پمز ہستپال کے سانحے نے جہاں 14 معصوم بچوں کی جانیں چھین کر کئی خاندانوں کو عمر بھر کا دکھ دے دیا وہیں اس المناک واقعے میں بچ جانے والی واحد بچی ایزل بھی اب ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ ننھی ایزل کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، والدین ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اپنی پہلی اولاد کی زندگی کے لیے فکرمند ہیں اور قوم سے اپنی بچی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔
ننھی ایزل آئی سی یو میں زیر علاج
ایزل کی والدہ آصفہ بی بی کے مطابق ان کی بچی اس وقت انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیر علاج ہے اور آگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دھویں نے اس کی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایزل قبل از وقت پیدا ہوئی تھی جس کے باعث وہ پہلے ہی انتہائی کمزور تھی اور موجودہ صورتحال نے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
والدین کی پہلی اولاد
آصفہ بی بی نے بتایا کہ ایزل ان کی پہلی اولاد ہے۔ بچی کو قبل از وقت پیدائش کے باعث پہلے ہی خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت تھی تاہم پمز میں پیش آنے والے سانحے کے بعد اب خاندان ایک اور کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔
والد کی آنکھوں میں بیٹی کے لیے امید اور خوف
بچی کے والد وقاص نے اپنی بیٹی کی حالت کے بارے میں بتایا کہ اس کی طبیعت مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ کبھی ایک دن صحت میں بہتری محسوس ہوتی ہے تو اگلے ہی روز حالت دوبارہ خراب ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچی کو خون بھی لگایا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی طبیعت سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑ رہی ہے۔ والدین کے لیے یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے کیونکہ وہ اپنی پہلی اور واحد اولاد کو اس حالت میں دیکھنے پر مجبور ہیں۔
والدین نے قوم سے اپیل کی ہے کہ ایزل کی زندگی کے لیے دعا کی جائے۔ ان کے لیے اس وقت ہر دعا امید کی ایک کرن ہے۔
نرس رضیہ نورین نے بھی بچوں کو بچانے کی کوشش کی
سانحے کے دوران بچوں کو بچانے کی کوشش کرنے والی نرس رضیہ نورین نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں واقعے کی ہولناک صورتحال بیان کی۔ انہونے کہا کہ دیگر بچوں کو بھی بچانے کی کوشش کی لیکن نرسری میں شدید دھواں اور آگ پھیل جانے کے باعث وہ دوبارہ اندر داخل نہ ہوسکیں۔
نرس رضیہ نورین کے لیے بھی یہ واقعہ ایک گہرا صدمہ بن گیا ہے۔ جن ننھے بچوں کو بچانے کے لیے انہوں نے اپنی پوری کوشش کی، ان کی موت نے انہیں شدید ذہنی اذیت سے دوچار کردیا ہے۔
یہ سانحہ صرف ان خاندانوں کا دکھ نہیں جنہوں نے اپنے بچے کھوئے، بلکہ ان طبی کارکنوں کے لیے بھی ایک ایسا زخم بن گیا ہے جو اپنی آنکھوں کے سامنے معصوم جانوں کو بچانے کی جدوجہد کرتے رہے۔
وفاقی وزیر صحت نے زیر علاج بچوں کی عیادت کی
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی پمز کے متاثرہ وارڈ کا دورہ کیا اور زیر علاج بچوں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب وارڈ میں موجود تمام بچوں کو دیکھا ہے اور یہ بچے انتہائی نگہداشت کے محتاج ہیں۔
سانحے میں 14 بچوں کی ہلاکت کے بعد پمز اسپتال میں غم کی فضا برقرار ہے۔ ایک طرف اپنے بچوں کو کھونے والے والدین اپنے پیاروں کی جدائی کا صدمہ برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب ایزل کے والدین اپنی ننھی بیٹی کی زندگی کے لیے ہر لمحہ دعاؤں اور امید کے سہارے بیٹھے ہیں۔
14 ننھی قبروں کے بعد ایک ننھی زندگی کی جنگ
پمز کا یہ واقعہ کئی خاندانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔ 14 بچوں کی موت کے بعد بچ جانے والی ننھی ایزل اس وقت اس سانحے کی واحد زندہ گواہ بن کر انتہائی نگہداشت میں ہے۔ اس کی تشویشناک حالت نے ایک بار پھر اس المناک واقعے کے زخم تازہ کردیئے ہیں۔
ایزل کے والدین کی نظریں ہسپتال کے دروازے پر جمی ہیں اور دل میں ایک ہی دعا ہے کہ ان کی ننھی بیٹی زندگی کی یہ جنگ جیت جائے۔ جس بچی کو انہوں نے اپنی پہلی اولاد کے طور پر دنیا میں خوش آمدید کہا تھا، آج اسی بچی کی سانسیں ان کے لیے پوری دنیا سے بڑھ کر اہم ہیں۔
اس وقت ایزل کے لیے ہر گزرتا لمحہ قیمتی ہے اور اس کے والدین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ ان کی بیٹی صحت یاب ہوکر دوبارہ ان کی گود میں آئے۔