ایران نے اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی کارروائیوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا اعلان کردیا،ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی امریکی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کارروائیوں کو جارحیت قرار دے دیا
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملے خطے میں جاری جارحیت کا تسلسل ہیں، تہران نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف ایران کی خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
جنگی جرم کا الزام
ایران نے امریکی کارروائیوں کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی اور تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کی کوششوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا،ایران نے واضح کیا کہ اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
عالمی جہاز رانی کو خطرہ
تہران کے مطابق امریکی اقدامات سے عالمی امن کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔