نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی، جس کے نتیجے میں بجلی صارفین پر مجموعی طور پر 12 ارب 66 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
نیپرا نے بجلی نرخوں میں یہ اضافہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں منظور کیا ہے۔ فیصلے کے تحت متعلقہ صارفین سے 52 پیسے فی یونٹ کے حساب سے اضافی رقم وصول کی جائے گی۔
تین ماہ تک وصولی
اضافی رقم ایک ہی ماہ کے بجلی بل میں وصول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے تین ماہ کے دوران صارفین سے لیا جائے گا،صارفین کے ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2026 کے بجلی بلوں میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں یہ رقم شامل کی جائے گی۔
کے الیکٹرک پر بھی اطلاق
حکومت کی یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت اس سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا،کے الیکٹرک کے متعلقہ صارفین سے بھی انہی تین ماہ کے دوران 52 پیسے فی یونٹ کے حساب سے اضافی رقم وصول کی جائے گی۔
نیپرا کے فیصلے کے مطابق بعض صارفین کو اس اضافی چارج سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،لائف لائن صارفین، پری پیڈ میٹر استعمال کرنے والے صارفین اور انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت بل کیے جانے والے یونٹس پر یہ اضافی چارج عائد نہیں ہوگا۔
300 یونٹس پر کتنا اضافہ؟
52 پیسے فی یونٹ کے حساب سے اگر کوئی صارف ایک ماہ میں 300 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے تو اس کے بل میں تقریباً 156 روپے اضافی شامل ہوسکتے ہیں،اسی طرح 500 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارف کے بل میں تقریباً 260 روپے کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
مجموعی بوجھ کتنا ہوگا؟
نیپرا کے فیصلے کے نتیجے میں ملک بھر کے متاثرہ بجلی صارفین پر مجموعی طور پر 12 ارب 66 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے،متعلقہ صارفین کو آئندہ تین ماہ تک اپنے بجلی کے استعمال کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافی رقم ادا کرنا ہوگی۔