قومی کرکٹر حسن علی کی اہلیہ سامعہ خان کی جانب سے شادی شدہ مردوں سے تعلق استوار کرنے والی خواتین پر کڑی تنقید پر مبنی ایک پراسرار سوشل میڈیا پوسٹ نے کرکٹر کے مبینہ افیئر کی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔
مبینہ طور پر شوہر کے ساتھ تصاویر ہٹانے، فالوورز کی فہرست سے نکالنے اور پھر دوبارہ شامل کرنے کے عمل نے اس خاندانی تنازع کو عوامی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔
سامعہ خان نے اپنی ایک انسٹاگرام اسٹوری میں ایسی خواتین کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا جو مالی مفادات یا مستقبل میں شادی کی لالچ میں بچوں والے شادی شدہ مردوں سے تعلق قائم کرتی ہیں۔
اس پوسٹ نے اس وقت ایک نیا رُخ اختیار کیا جب مداحوں نے نوٹ کیا کہ سامعہ خان نے مبینہ طور پر اپنے پروفائل سے حسن علی کے ساتھ موجود تصاویر ہٹا دی ہیں۔
ابتدا میں انہوں نے اپنے شوہر کو اَن فالو بھی کیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد دوبارہ فالو کر لیا اور بعد ازاں وہ تمام اسٹوریز بھی ڈیلیٹ کر دیں جنہوں نے اس بحث کو جنم دیا تھا۔
عوامی سطح پر ملا جلا ردعمل
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین کا موقف ہے کہ ایسے معاملات میں محض ’دوسری عورت‘ کو نشانہ بنانا درست نہیں، بلکہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی اور سے تعلق قائم کرتا ہے تو اس میں وہ خود بھی برابر کا شریک ہوتا ہے۔
متعدد افراد نے سامعہ خان کو مشورہ دیا کہ وہ دوسری خاتون پر غصہ نکالنے کے بجائے اپنے شوہر سے بھی جواب طلبی کریں۔
دوسری جانب بعض تبصروں میں نامور کھلاڑیوں کے مداح خواتین کے ساتھ فلرٹ کرنے کے مبینہ رویوں پر بھی سخت مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔
حسن علی اور سامعہ خان کی شادی کو تقریباً 5 برس گزر چکے ہیں اور وہ 3 بچوں کے والدین ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں ہیلینا اور ہیزل ہیں، جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے کا نام حمدان ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ محض چند روز قبل ہی اس جوڑے نے مری اور نتھیا گلی میں اپنی تعطیلات گزاری تھیں۔ ان مقامات سے ان کی انتہائی خوشگوار اور ہنستی مسکراتی خاندانی تصاویر بھی منظرِ عام پر آئی تھیں، جس کے باعث حالیہ کشیدگی نے مداحوں کو مزید حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔
شوبز اور کھیلوں کی دنیا پر گہری نظر رکھنے والے صحافتی ماہرین کے مطابق، مشہور شخصیات کی نجی زندگی اور ان کا سوشل میڈیا کا استعمال اب ایک دوسرے سے جڑ چکا ہے۔
سامعہ خان کی جانب سے غصے کے عالم میں پوسٹ لگانا اور پھر اسے ہٹا کر تصاویر غائب کرنا، ان کی جذباتی کیفیت اور کسی ممکنہ خاندانی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ عوامی شخصیات کے لیے ایسے معاملات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لانا ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے غیر ضروری قیاس آرائیوں کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔
تاحال اس جوڑے کی جانب سے کسی باقاعدہ تردید یا تصدیق کا سامنے نہ آنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ معاملات کو پسِ پردہ سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم ڈیجیٹل دور میں ایک بار سامنے آنے والی بات کو مکمل طور پر دبانا انتہائی مشکل ہے۔