پاکستان کو ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث نئے چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ بحرالکاہل میں ایل نینوکا مضبوط مرحلہ بن رہا ہے، جس کے اثرات ملک میں بارشوں، گرمی اور پانی کی دستیابی پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق استوائی بحرالکاہل میں ایل نینو کا عمل واضح طور پر شروع ہوچکا ہے اور آئندہ چند ماہ میں اس کے مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ ادارے کے مطابق تقریباً 100 فیصد امکان ہے کہ یہ موسمیاتی صورتحال فروری 2027 تک برقرار رہے گی۔
پاکستان میں مون سون متاثر ہوسکتا ہے
ایل نینو اس وقت بنتا ہے جب بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے کے سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ گرم ہوجائے۔ اس کے اثرات صرف بحرالکاہل تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت، بارشوں اور شدید موسمی واقعات کے انداز کو متاثر کرسکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا خدشہ مون سون بارشوں سے متعلق ہے۔ پاکستان محکمہ موسمیات کی تحقیق کے مطابق مضبوط ایل نینو والے برسوں میں ملک میں موسم گرما کی مون سون بارشیں عموماً کم رہتی ہیں۔
پانی کی قلت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے
مون سون میں کمی پاکستان کے پہلے سے دباؤ کا شکار آبی وسائل کے لیے ایک اور مشکل پیدا کرسکتی ہے۔ کم بارشوں کا اثر زراعت، آبپاشی اور فصلوں کی پیداوار پر پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ایسے موسمی تضاد کا سامنا کررہا ہے جہاں ایک طرف شدید بارشیں اور سیلاب آتے ہیں جبکہ دوسری طرف پانی کی قلت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
گرمی اور خشک سالی کا خطرہ بھی
ایل نینو کے دوران عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرتا رہا ہے، اس لیے مزید گرم موسم خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے۔
ڈبلیو ایم او کے مطابق ایل نینو دنیا کے مختلف حصوں میں ہیٹ ویو، خشک سالی اور شدید بارشوں جیسے موسمی واقعات کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ممکنہ موسمی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کے بہتر انتظام، زرعی منصوبہ بندی اور شدید موسم سے نمٹنے کی تیاریوں کو مزید مؤثر بنایا جائے۔