سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، ٹائم اسکیل ملازمین کو اپنا حق مل گیا

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، ٹائم اسکیل ملازمین کو اپنا حق مل گیا

سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جس کے تحت ٹائم سکیل کی بنیاد پر 40 سے زیادہ ملازمین کو ہیڈ کوارٹر الاؤنس کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔

اعلیٰ عدالت نے واضح کیا کہ الاؤنس سے متعلق اصل سمری میں ٹائم اسکیل ملازمین کو اس سے محروم رکھنے کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔

منگل کو ایف بی آر افسران کے ہیڈ کوارٹر الاؤنس سے متعلق اہم کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔

دورانِ سماعت ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس دیا جاتا ہے، تاہم ایف بی آر ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس کی جگہ ہیڈ کوارٹر الاؤنس دیا گیا تھا جو بنیادی طور پر 17 گریڈ کے افسران کے لیے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری، وزارت خزانہ کا اہم فیصلہ

وکیل کا کہنا تھا کہ موجودہ درخواست گزاران 17 گریڈ کے ملازمین نہیں ہیں بلکہ وہ ٹائم اسکیل والے ملازمین ہیں، لہٰذا انہیں یہ الاؤنس نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ کیس سروس ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور استدعا کی کہ عدالت فنانس ڈویژن کو نوٹس جاری کرے۔

سمری کی طلب اور چیف جسٹس کے ریمارکس

سماعت کے دوران معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ’کیا اس الاؤنس کی منظوری وزیراعظم نے دی تھی؟‘ جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ’اس الاؤنس کی سمری کو فوری منگوائیں تاکہ حقیقت کا پتہ چلے۔‘

عدالتی حکم پر دورانِ سماعت ہی ایف بی آر ہیڈ کوارٹر الاؤنس کی اصل سمری پیش کی گئی۔ سمری کا معائنہ کرنے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے واضح کیا کہ ’سمری میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی‘ جس سے ٹائم سکیل ملازمین کو روکا جا سکے۔

مزید پڑھیں:سرکاری ملازمین کی ترقیوں کے متعلق عدالت کا بڑا فیصلہ

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایف بی آر ٹائم اسکیل ملازمین کو علیحدہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے دوبارہ نئی سمری بھجوا دے۔

واضح رہے کہ ایف بی آر کے 40 سے زیادہ ملازمین نے ٹائم سکیل کی بنیاد پر الاؤنس کی فراہمی کے لیے سروس ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔ ملازمین کا مؤقف تھا کہ وہ محکمانہ قواعد کے تحت اس الاؤنس کے مکمل حقدار ہیں۔

سروس ٹریبونل نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ ملازمین کے حق میں سنایا تھا۔

ایف بی آر نے اس فیصلے کو ماننے کے بجائے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں، جنہیں اب اعلیٰ عدالت نے بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔

قانون اور انتظامی امور کے ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بیوروکریسی کے اندر پالیسیوں کی زبردستی من مانی تشریح کے رجحان کو روکنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کے لئے تنخواہ اور الاؤنسز سے متعلق بڑی خوشخبری

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ محکمے سمری منظور کرواتے وقت شرائط واضح نہیں رکھتے اور بعد میں الاؤنسز کی ادائیگی سے بچنے کے لیے قانونی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے موقع پر سمری طلب کر کے دیکھنا شفافیت کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف متاثرہ 40 ملازمین کو ان کا جائز حق ملے گا، بلکہ تمام سرکاری محکموں کو بھی یہ پیغام ملا ہے کہ جب تک دستاویزات میں واضح استثنیٰ موجود نہ ہو، ملازمین کو الاؤنسز یا مراعات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

Related Articles