الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں صوبائی حکومت کو قانون سازی کی خاطر مزید 3 ہفتے کی مہلت دے دی ہے۔
ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کے بعد خبردار کیا ہے کہ اگر تاخیری حربے بند نہ ہوئے تو وزیراعلیٰ کو طلب بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ کیس کی اگلی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے سخت ریمارکس
الیکشن کمیشن میں خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں قائم 4 رکنی کمیشن نے کی۔
سماعت کے دوران صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے التوا اور حلقہ بندیوں کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن نے 2 سیاسی جماعتیں ڈی لسٹ کردیں، سیاسی جماعتوں کی تعداد 159 ہوگئی
ممبر بلوچستان نے صوبائی حکومت کے رویے پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا حکومت مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے اور ایسا نہ ہو کہ کمیشن کو وزیراعلیٰ کو خود طلب کرنا پڑے۔
ممبر سندھ نثار درانی کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات تو ہر صورت کروانے ہی پڑیں گے کیونکہ کمیشن کے پاس اپنے اختیارات کے استعمال کے لیے بہت سے آئینی راستے موجود ہیں۔
حلقہ بندیوں کا تعطل اور صوبائی حکومت کا مؤقف
سماعت کے دوران اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے 7 اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل اس وقت تعطل کا شکار ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ صوبائی حکومت پورے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی مرحلے میں کروانا چاہتی ہے۔
حکام کے مطابق، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے گزشتہ سماعت پر قانون سازی کے لیے 3 ہفتے کا وقت مانگا تھا۔
اس ضمن میں 31 اگست کو صوبائی کابینہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دیگر صوبوں کے بلدیاتی نظام کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چیف سیکرٹری کے پی کے مطابق فی الوقت کابینہ کی کمیٹی قانون میں ترامیم پر غور کر رہی ہے۔ اس نقطے پر ممبر کے پی نے نشاندہی کی کہ اگر قانون میں ترمیم کی گئی تو تمام حلقہ بندیاں نئے سرے سے کرنا پڑیں گی۔
مزید پڑھیں:شاہد خاقان کوانٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانا مہنگا پڑگیا، الیکشن کمیشن نے عوام پاکستان پارٹی ڈی لسٹ کردی
اسپیشل سیکریٹری نے الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کروائی کہ اگر صوبائی حکومت حتمی فیصلہ کر لے تو الیکشن کمیشن پورے صوبے میں ایک ساتھ انتخابات کروانے کے لیے مکمل تیار ہے۔
تمام فریقین کے دلائل اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد الیکشن کمیشن نے کے پی حکومت کو قانون سازی کے لیے مزید 3 ہفتے کا وقت دے دیا اور خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کیس کی مزید سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد سے نئے انتخابات کے انعقاد میں مسلسل تاخیر دیکھنے میں آ رہی ہے۔
حلقہ بندیوں، انتظامی اصلاحات اور قانون سازی کے پیچیدہ مسائل کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں انتخابی عمل رکا ہوا ہے۔
صوبائی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ وہ تمام اضلاع میں ایک یکساں اور جدید بلدیاتی نظام کے تحت ایک ہی مرحلے میں الیکشن کروانا چاہتی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمے داری ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب یقینی بنائے۔
سیاسی اور قانونی ماہرین کے مطابق، الیکشن کمیشن کی جانب سے صوبائی حکومت کو دی گئی 3 ہفتے کی مہلت دراصل ایک آخری تنبیہ معلوم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی کو الزامات کے بجائے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنا چاہیے،وزیر اطلاعات پنجاب


