امریکی ریاست نیواڈا کے تپتے صحرا میں ایک ایسا عجیب و غریب فوارہ موجود ہے جو قدرتی طور پر نہیں بلکہ انسان کی ایک کوشش کے دوران اچانک وجود میں آیا۔
یہ انوکھا منظر 1964 میں اس وقت سامنے آیا جب وہاں پانی کی تلاش میں کنواں کھودا جارہا تھا۔ اسی دوران زمین کے اندر سے انتہائی گرم پانی باہر نکل آیا۔ کوشش کے باوجود گرم پانی کے اس چشمے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جاسکا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے گرد معدنیات جمع ہونا شروع ہوگئیں۔
گرم پانی میں موجود مختلف معدنیات اور کیلشیم برسوں تک وہاں جمع ہوتے رہے، جس کے نتیجے میں تین عجیب و غریب مخروطی شکل کے مینار وجود میں آگئے۔ یہ مینار آج اس مقام کی سب سے نمایاں پہچان ہیں اور دور سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے جیسے صحرا میں کسی دوسری دنیا کی کوئی پراسرار عمارت کھڑی ہو۔
اس مقام کی سب سے حیران کن بات اس پر نظر آنے والے سرخ، پیلے اور سبز رنگ ہیں۔ ان رنگوں کی ایک بڑی وجہ گرم پانی کے ماحول میں پروان چڑھنے والی مخصوص کائی اور دیگر خردبینی جاندار ہیں، جو معدنیات کے ساتھ مل کر فوارے کو غیر معمولی رنگ دیتے ہیں۔
تپتے ہوئے صحرا کے درمیان مسلسل گرم پانی خارج کرنے والا یہ فوارہ اپنی عجیب ساخت اور شوخ رنگوں کی وجہ سے کسی سائنس فکشن فلم کے منظر جیسا دکھائی دیتا ہے۔ انسانی سرگرمی کے دوران حادثاتی طور پر وجود میں آنے والا یہ مقام آج قدرت اور انسان کے غیر متوقع امتزاج کی ایک دلچسپ مثال بن چکا ہے اور اسے دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔