پنجاب بھر کے سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں میں میٹرک کے بعد گیارہویں جماعت میں طلبہ کے داخلوں میں 90 فیصد کمی کا انکشاف ہوا ہے، جس نے صوبے کے سرکاری تعلیمی نظام کی کارکردگی اور ہائرسیکنڈری سطح پر طلبہ کے رجحان کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق میٹرک مکمل کرنے کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں میں داخلہ لینے کے بجائے سرکاری و دیگر کالجز اور دوسرے تعلیمی اداروں کا رخ کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں میں گیارہویں جماعت کی نشستیں بڑی حد تک خالی رہنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پنجاب کے سرکاری سکولوں میں دسویں جماعت کے 6 لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم تھے۔
تاہم میٹرک کے بعد جب یہی طلبہ گیارہویں جماعت میں داخلے کے مرحلے میں پہنچے تو سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں میں صرف 56 ہزار طلبہ نے داخلہ لیا۔
اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو دسویں جماعت میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد اور سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں میں گیارہویں جماعت میں داخل ہونے والے طلبہ کی تعداد میں بہت بڑا فرق سامنے آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق میٹرک کے بعد ساڑھے 5 لاکھ سے زائد طلبہ نے سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں کے بجائے مختلف کالجز میں داخلہ حاصل کیا۔
یوں گیارہویں جماعت میں داخلے کے مرحلے پر طلبہ کی واضح اکثریت نے ہائرسیکنڈری سکول کے بجائے کالج کو ترجیح دی۔
یہ صورتحال سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے کیونکہ اگر میٹرک کے بعد طلبہ کی بڑی تعداد ان اداروں میں داخل نہیں ہوتی تو نہ صرف کلاس رومز اور تعلیمی سہولیات کا مکمل استعمال نہیں ہوپائے گا بلکہ ان سکولوں میں تدریسی عملے اور دیگر وسائل کی ضرورت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔
تعلیمی حلقوں کے مطابق میٹرک کے بعد طلبہ اور والدین کی بڑی تعداد کالجز کو اس لیے ترجیح دیتی ہے کہ کالج کا ماحول انٹرمیڈیٹ کی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کی طرف جانے کا راستہ روایتی طور پر کالج سے زیادہ منسلک سمجھا جاتا ہے۔
بعض والدین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کالج میں ایف اے ایف ایس سی آئی سی ایس یا دیگر انٹرمیڈیٹ پروگرامز کے لیے طلبہ کو زیادہ وسیع مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ کئی علاقوں میں سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں کے مقابلے میں کالجز کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے، جس کا اثر میٹرک کے بعد طلبہ کے داخلوں پر پڑ رہا ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر سرکاری سکولوں میں دسویں جماعت تک لاکھوں طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں لیکن میٹرک کے بعد ان میں سے صرف محدود تعداد ہائرسیکنڈری سکولوں میں برقرار رہتی ہے تو اس رجحان کی وجوہات کا باقاعدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
صرف نئے داخلوں میں کمی کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ طلبہ کالج کا انتخاب کیوں کررہے ہیں، سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں میں کون سی سہولیات موجود نہیں اور والدین و طلبہ کی ترجیحات کیا ہیں۔
رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار پنجاب کے سرکاری تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم پالیسی سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ اگر میٹرک کے بعد طلبہ کی اکثریت کالجز کا رخ کرتی ہے تو ہائرسیکنڈری سکولوں کے کردار، نصاب، سہولیات اور تدریسی معیار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق جدید سائنس، کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں بہتر سہولیات معیاری تدریس اور طلبہ کے لیے مزید تعلیمی مواقع فراہم کرکے سرکاری ہائرسیکنڈری سکولوں کو زیادہ پرکشش بنایا جاسکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں 6 لاکھ سے زائد دسویں جماعت کے طلبہ کے مقابلے میں صرف 56 ہزار کا ہائرسیکنڈری سکولوں میں داخلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میٹرک کے بعد طلبہ کے تعلیمی راستے میں ایک واضح تبدیلی آرہی ہے، جس پر محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام کی جانب سے سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔