حکومت پنجاب نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 کے تحت پابندیاں عائد کردی ہیں،محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پابندیوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے انتہائی حساس رپورٹس موصول ہوئی ہیں، جن میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے عوامی اجتماعات اور ریلیوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں کسی بھی عوامی مقام، شاہراہ یا کھلی جگہ پر 5 یا اس سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہوگی،اس دوران جلوس، جلسے، دھرنے اور مظاہرے بھی نہیں کیے جاسکیں گے۔
عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے،غیر قانونی اجتماعات، ریلیوں یا مظاہروں میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے یا ترغیب دینے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں :ملک کے بڑے شہر میں دفعہ 144 نافذ
محکمہ داخلہ کے مطابق دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں کا اطلاق مساجد اور دیگر عبادت گاہوں، نمازِ جنازہ، تدفین اور شادی بیاہ کی تقریبات پر نہیں ہوگا،عدالتیں اور حکومتی ادارے بھی ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔
باضابطہ انتظامی اجازت نامے یعنی این او سی کے بعد منعقد ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی،ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بھی ان پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔


