ملک کے بڑے شہر میں دفعہ 144 نافذ

ملک کے بڑے شہر میں دفعہ 144 نافذ

ضلعی انتظامیہ نے 14 اگست یومِ آزادی کے پیشِ نظر شہر میں دفعہ 144 نافذ کردی، جس کے تحت ہوائی فائرنگ، اسلحہ نما کھلونوں کی خرید و فروخت اور تیز ہارن کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔

ڈپٹی کمشنر پشاور نے یومِ آزادی کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کردیا۔

اس پابندی کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور قومی تہوار کو پرامن طریقے سے منانا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس دوران ہوائی فائرنگ، اسلحہ نما کھلونوں کی خرید و فروخت اور تیز ہارن کے استعمال پر سختی سے پابندی ہوگی۔

ہوائی فائرنگ اور اسلحہ نما کھلونوں پر مکمل پابندی

ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران کوئی بھی شخص ہوائی فائرنگ نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اسلحہ نما کھلونوں کی خرید و فروخت کی جاسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع ، کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر پابندی بھی برقرار

اس پابندی کا مقصد شہریوں کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچانا ہے، کیونکہ ماضی میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ۔

تیز ہارن کے استعمال پر بھی پابندی

شہریوں کی جانب سے تیز ہارن کے استعمال کی شکایات سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے اس پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ تیز ہارن عام لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں اور شور مچا کر ماحول کو آلودہ کرتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا مقصد شہریوں کو پریشانی سے بچانا اور پرامن ماحول فراہم کرنا ہے ۔

مزید پڑھیں:عیدالاضحیٰ پر دفعہ 144 کے نفاذ سے متعلق محکمہ داخلہ پنجاب نے احکامات جاری کردیے

پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں اہم مذہبی اور قومی تہواروں کے موقع پر دفعہ 144 کا نفاذ معمول کی بات ہے۔ اس سے قبل چہلمِ امام حسین کے موقع پر بھی صوبے کے 13 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی، جس میں ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش، سیاہ شیشوں والی گاڑیوں، لاؤڈ اسپیکرز اور آتشبازی پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔

پرامن جشنِ آزادی کی یقین دہانی

ماہرین کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ ایک ضروری اقدام ہے جو شہریوں کو لاپرواہی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے بچاتا ہے۔ ہوائی فائرنگ جیسے اقدامات نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ ان سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

اس پابندی کے ذریعے ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ کوئی بھی شخص عوام کی جان و مال کو خطرے میں ڈال کر جشن نہیں منا سکتا۔

Related Articles