روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ماسکو میں تقریباً 3 گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کریملن میں ہونے والی ملاقات کے دوران روسی صدر کے معاون یوری اُوشاکوف اور روسی براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کیریل دیمتریف بھی موجود تھے۔
ملاقات کے موقع پر صدر پیوٹن نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین بحران کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کام کرنا روس کے لیے اطمینان بخش ہے۔
صدر پیوٹن نے بتایا کہ انہیں روسی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارت خارجہ کی جانب سے کیف پر حملے عارضی طور پر روکنے کی تجویز موصول ہوئی تھی،انہوں نے کہا 5 ستمبر کی نصف شب کے بعد سے کیف پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔
روسی صدر نے اس پیش رفت کو امریکا کے ساتھ جاری رابطوں کے تناظر میں اہم قرار دیا، تاہم جنگ بندی اور امن مذاکرات کے حوالے سے کسی حتمی معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
پیوٹن سے ملاقات سے قبل امریکی وفد نے روسی براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کیریل دیمتریف کے ساتھ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک لنچ پر بات چیت کی۔
ملاقاتوں کے بعد امریکی وفد روس کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز لے کر یوکرین روانہ ہوگا، جہاں امریکی حکام یوکرینی قیادت کے ساتھ ان تجاویز پر تبادلہ خیال کریں گے۔
اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اس اقدام پر شکر گزار ہیں کہ امریکی وفد کے دورہ روس کے دوران یوکرین کے ساتھ 3 روزہ جنگ بندی کی گئی۔
امریکی اور روسی حکام کے درمیان حالیہ رابطوں کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم جنگ بندی کو مستقل بنانے اور روس و یوکرین کے درمیان جامع امن معاہدے کے لیے مزید مذاکرات اور دونوں فریقوں کی رضامندی درکار ہوگی۔