اغوا برائے تیرہ منٹ پہلی بار سنا، شیر افضل مروت کا سہیل آفریدی کے دعوے پر تبصرہ

اغوا برائے تیرہ منٹ پہلی بار سنا، شیر افضل مروت کا سہیل آفریدی کے دعوے پر تبصرہ

  پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے سہیل آفریدی کے مبینہ اغوا کے دعوے پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اغوا برائے تاوان تو سنا تھا، اغوا برائے تیرہ منٹ پہلی بار سنا ہے ۔

   سہیل آفریدی  احتجاج کے دوران پولیس وین پر جا کر بیٹھ گئے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ پولیس وین سے اتر گئے۔ بعد ازاں ان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انہیں پولیس نے اغوا کیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :پنجاب میں سٹریٹ موومنٹ بری طر ح ناکام  ، پی ٹی آئی بوکھلاہٹ کا شکار، پیٹرول  پمپ مالکان کوبائیکاٹ کی دھمکیاں

دوسری جانب پولیس کی جانب سے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سہیل آفریدی خود پولیس وین کے پاس آئے اور خود ہی اس میں بیٹھے تھے۔ جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں واضح طور پر سہیل آفریدی کو پولیس وین پر بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔

ایک پولیس اہلکار ان کو گاڑی سے اترنے کا کہ رہاہے لیکن سہیل آفریدی گاڑی سے نہیں اتر رہے اس کے بعد جب گاڑی تھوڑی آگے چلی تو سہیل آفرید خود بخود گاڑی سے اتر گئے ، بعد میں سہیل آفریدی نے دعوی کیا کہ انہیں پنجاب پولیس نے اغواء کیا ۔

 سہیل آفریدی کے اس دعوی کے حوالے سے  نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے سہیل آفریدی کے دعوے کو طنزیہ انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اغوا برائے تاوان تو سنا تھا، اغوا برائے تیرہ منٹ پہلی بار سنا ہے۔‘‘

 یہ بھی پڑھیں :شٹر ڈاؤن کی کال بری طرح ناکام،پی ٹی آئی کو ملک بھر کے عوام نے مسترد کر دیا

شیر افضل مروت نے مزید طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’یعنی 13 منٹ بعد اغوا ہی ختم ہوگیا۔‘‘ سہیل آفریدی نے یہ نہیں بتایا کے گاڑی ان کو کہیں لے کر بھی گئی ہے کہ نہیں ۔

اس سے قبل پنجاب میں سٹریٹ موومنٹ کے دوران ایک پیٹرول پمپ پر سہیل آفرید ی کی گاڑی کو پیٹرول دینے سے انکار پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے حواس باختہ ہو کر پیٹرول پمپ مالک کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مذکورہ پیٹرول پمپ کے بائیکاٹ کا کی اپیل کی جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے عوام نے تحریک انصاف کی اس سٹریٹ موومنٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے باعث وہ بالکل حواس باختہ ہو چکے ہیں ۔

editor

Related Articles