وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کے فیول ریلیف پیکج کی منظوری دے دی گئی۔
حکومتی فیصلے کے تحت موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کو ہر ہفتے 500 روپے کا فیول ریلیف فراہم کیا جائے گا جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ہر 10 دن بعد 1000 روپے کی مالی سہولت مقرر کی گئی ہے۔
فیول ریلیف کے لیے 75 ارب روپے منظور
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیول ریلیف اسکیم کو عملی شکل دینے کے لیے 75 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بھی دی ہے۔ حکومتی منصوبے کے مطابق اس امدادی اسکیم کا فائدہ صرف غیر کمرشل صارفین اٹھا سکیں گے۔
حکام کے مطابق ایک صارف یا گاڑی کا مالک صرف ایک گاڑی کے لیے فیول ریلیف حاصل کرسکے گا۔ اس پابندی کا مقصد اسکیم کے فوائد کو محدود افراد تک مرکوز ہونے سے روکنا اور زیادہ سے زیادہ اہل شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم متعارف ہوگا
فیول ریلیف کی تقسیم میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ آئی ٹی اس نظام کو تیار کرے گی اور اس کے انتظام کی ذمہ داری بھی اسی وزارت کے پاس ہوگی۔
ڈیجیٹل نظام کے ذریعے صارفین کی شناخت اور ریلیف کی فراہمی کے عمل کو منظم کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ حکومتی رقم کا استعمال شفاف طریقے سے ہوسکے۔
پی این ایس سی کی تنظیم نو کا فیصلہ
اجلاس میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول کی تنظیم نو کے فریم ورک کی بھی منظوری دی گئی۔ اس حوالے سے نجکاری وزیر کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کو منظور کرلیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے ادارے کے انتظامی اور ملکیتی معاملات میں بہتری لانے کے لیے تنظیم نو کا عمل آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں موجود آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے ڈرافٹ اپ گریڈ معاہدے کی بھی منظوری دی ہے۔ ریفائنریوں سے متعلق منصوبوں کی تکمیل کے لیے پانچ سال کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے۔
اس فیصلے سے ملک کے ریفائننگ سیکٹر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور توانائی کے شعبے میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔
استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کا معاملہ مؤخر
اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد سے متعلق معاملہ فوری طور پر منظور نہیں کیا گیا اور اسے مؤخر کردیا گیا۔ اس معاملے پر آئندہ غور اور فیصلے کے لیے مزید کارروائی کی جائے گی۔
دو لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت
ای سی سی نے دو لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی بیرون ملک برآمد کرنے کی منظوری بھی دے دی۔ تاہم حکومت نے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے حفاظتی شرائط عائد کی ہیں۔
ان شرائط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ برآمد کے نتیجے میں ملک کے اندر چینی کی دستیابی متاثر نہ ہو اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایس سی او اجلاس کے لیے 3 ارب روپے منظور
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایس سی او سربراہ اجلاس کے انتظامات کے لیے 15 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی غرض سے 3 ارب روپے کی منظوری بھی دی ہے۔ یہ فیصلہ اجلاس میں شرکت کرنے والے اہم شخصیات کے سکیورٹی انتظامات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے ایک طرف عام صارفین کے لیے فیول ریلیف اسکیم کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب توانائی، شپنگ، چینی اور اہم سرکاری انتظامات سے متعلق متعدد معاملات پر بھی فیصلے کیے گئے ہیں ۔