خاتون بن کر رہنے والا مفرور مجرم آخرکار پولیس کے ہاتھ آگیا

خاتون بن کر رہنے والا مفرور مجرم آخرکار پولیس کے ہاتھ آگیا

ترکیہ میں پولیس نے ایک ایسے مفرور مجرم کو 8 سال بعد گرفتار کر لیا جس نے قانون سے بچنے کے لیے اپنی شکل و صورت تبدیل کرکے خاتون کا روپ دھار لیا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق طغرل بشر نامی شخص کو 2018 میں چوری اور سرکاری اہلکار کا روپ دھارنے سے متعلق 3 مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے اسے 3 سال قید کی سزا سنائی، تاہم سزا شروع ہونے سے پہلے ہی وہ فرار ہوگیا۔

شکل بدل کر پولیس کو چکمہ دیتا رہا

میڈیا رپورٹ کے مطابق فرار ہونے کے بعد طغرل بشر نے اپنی ظاہری شکل میں نمایاں تبدیلیاں کیں اور خاتون کا روپ دھار لیا۔ وہ استنبول میں سفر کے دوران اپنی بہن کا شناختی کارڈ بھی استعمال کرتا رہا۔ بھیس بدلنے اور شناخت تبدیل کرنے کے باعث پولیس کے لیے اسے پرانی تصاویر کی مدد سے تلاش کرنا مشکل ہوگیا۔

پولیس نے روایتی طریقہ چھوڑ دیا

کئی سال تک تلاش کے باوجود جب پولیس کو کامیابی نہ ملی تو تفتیش کا طریقہ تبدیل کیا گیا۔ پولیس نے اس کی ظاہری شکل کے بجائے روزمرہ معمولات، نقل و حرکت اور ذاتی معلومات پر توجہ مرکوز کرنا شروع کردی۔ اسی دوران تفتیش کاروں کو ایک اہم سراغ ملا۔

پولیس کو معلوم ہوا کہ طغرل بشر کی بہن، جو بیرون ملک مقیم ہے، اس کے کریڈٹ کارڈ سے ترکیہ میں خریداری کی گئی ہے۔ اس انکشاف کے بعد پولیس کا شک مزید مضبوط ہوگیا۔

کریڈٹ کارڈ ریکارڈ نے سراغ دے دیا

پولیس نے کریڈٹ کارڈ سے ہونے والی خریداری کے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور اس کی مدد سے استنبول کے ضلع کادیکوئی تک پہنچ گئی۔ بالآخر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے وہاں چھپے طغرل بشر کو گرفتار کرلیا۔

فنگر پرنٹس سے شناخت کی تصدیق

گرفتاری کے بعد پولیس نے زیر حراست شخص کے فنگر پرنٹس حاصل کیے اور انہیں اپنے ریکارڈ سے ملایا۔ فنگر پرنٹس کی جانچ سے تصدیق ہوگئی کہ گرفتار ہونے والا شخص ہی طغرل بشر ہے، جو 2018 میں سزا سنائے جانے کے بعد فرار ہوگیا تھا۔ یوں خاتون کا روپ، دوسری شناخت اور 8 سال تک روپوش رہنے کی کوشش بھی اسے قانون کی گرفت سے نہ بچا سکی۔

editor

Related Articles