ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایوان نمائندگان میں اہم سیاسی جھٹکا لگا ہے، جہاں ارکان نے صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے اور ایران میں جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی قرارداد 204 کے مقابلے میں 220 ووٹوں سے منظور کرلی۔
امریکی ایوان نمائندگان میں منظور ہونے والی یہ قرارداد صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی جاری رکھنے سے روکنے کی کوشش ہے۔ قرارداد کے حق میں تمام ڈیموکریٹ ارکان کے ساتھ 7 ری پبلکن ارکان نے بھی ووٹ دیا جس سے حکمران جماعت کے اندر ایران جنگ پر اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں۔
یہ ووٹنگ ایران جنگ کے آغاز کے تقریباً سات ماہ بعد ہوئی ہے اور جون اور جولائی میں ہونے والی ایسی دو سابقہ کوششوں کے بعد ایوان نمائندگان میں تیسری مرتبہ جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور ہوئی ہے اس مرتبہ پہلے کی نسبت زیادہ ری پبلکن ارکان نے صدر کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی۔
سات ری پبلکن ارکان نے پارٹی قیادت سے ہٹ کر ووٹ دیا
ایوان نمائندگان میں قرارداد کی حمایت کرنے والے سات ری پبلکن ارکان میں ٹام بیرٹ وارن ڈیوڈسن، برائن فٹزپیٹرک، تھامس میسی، نینسی میس، میریانیٹ ملر میکس اور زیک نَن شامل ہیں۔
ان میں سے چار ارکان پہلے بھی ایران جنگ کے حوالے سے جنگی اختیارات محدود کرنے والی قراردادوں کی حمایت کرچکے تھے جبکہ نینسی میس میریانیٹ ملر میکس اور زیک نَن نے اس مرتبہ پہلی بار اس اقدام کی حمایت کی۔
یوں ری پبلکن پارٹی کے اندر ایران جنگ کے حوالے سے اختلاف کا دائرہ گزشتہ ووٹنگز کے مقابلے میں وسیع ہوا ہے اگرچہ مجموعی طور پر پارٹی کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کے خلاف قرارداد کی حمایت نہیں کی۔
قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیاں جاری رکھنے سے روکنا اور امریکی مسلح افواج کو ایران کے ساتھ جاری جنگی کارروائیوں سے واپس بلانا ہے۔
یہ اقدام امریکی آئین میں جنگ کے حوالے سے کانگریس اور صدر کے اختیارات کے درمیان توازن کے سوال کو بھی دوبارہ مرکزِ بحث میں لے آیا ہے۔ امریکی آئین کانگریس کو جنگ کے اعلان کا اختیار دیتا ہے جبکہ صدر مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف ہیں۔ وار پاورز ایکٹ کے ذریعے بھی طویل فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔
ابھی ٹرمپ کے جنگی اختیارات فوری طور پر ختم نہیں ہوئے
ایوان نمائندگان سے قرارداد منظور ہونے کے باوجود اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات فوری طور پر ختم ہوگئے ہیں۔ قرارداد کو مزید قانونی اور پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔
امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ کی جانب سے اس قرارداد کو زیر غور لانے کے امکانات ابھی واضح نہیں ہیں۔ اس سے قبل جولائی میں ایوان سے منظور ہونے والی جنگی اختیارات کی قرارداد بھی سینیٹ میں آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔
اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس پہلے ہی ایسی کوششوں کی مخالفت کرتا رہا ہے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایسی قرارداد کو ویٹو کیے جانے کا امکان بھی امریکی میڈیا نے ظاہر کیا ہے۔
ایران جنگ کی بڑھتی لاگت بھی بڑا مسئلہ بن گئی
ایران جنگ کے حوالے سے امریکی کانگریس میں ہونے والی بحث صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں رہی بلکہ جنگ کے بڑھتے ہوئے مالی اخراجات بھی ارکان کے لیے اہم مسئلہ بن گئے ہیں۔
امریکی کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق یکم اگست 2026 تک ایران جنگ پر امریکی محکمہ دفاع کے اخراجات 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے تھے، جبکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں ماہانہ اخراجات تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر تک رہنے کا اندازہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ نے امریکی مہنگائی پر بھی اضافی دباؤ ڈالا ہے۔
جنگ کے باعث خلیج اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں بھی پیدا ہوئی ہیں جس کا اثر عالمی توانائی کی قیمتوں اور امریکی صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ٹرمپ کا مؤقف برقرار
دوسری جانب صدر ٹرمپ ایران کے خلاف اپنی فوجی حکمت عملی کا دفاع کرتے رہے ہیں اور امریکی انتظامیہ کے مطابق ایران اب بھی امریکہ اور خطے کے لیے سکیورٹی خطرہ ہے۔
ایوان میں قرارداد کی مخالفت کرنے والے ری پبلکن ارکان نے بھی ایران کو مسلسل خطرہ قرار دیتے ہوئے صدر کے فوجی اقدامات کا دفاع کیا۔ ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کے ری پبلکن چیئرمین برائن ماسٹ نے سوال اٹھایا کہ ایران کے خلاف کارروائی ختم ہونے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی وسائل اور سکیورٹی مفادات کا کیا ہوگا۔
نومبر کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیش رفت
یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور ایران جنگ امریکی سیاست کا اہم موضوع بنتی جارہی ہے۔ ایوان نمائندگان کے لیے یہ رواں انتخابات سے قبل ایران جنگ پر آخری اہم ووٹنگ بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ ارکان جلد انتخابی مہم کے لیے اپنے حلقوں میں واپس جائیں گے۔
یوں ایران جنگ پر صدر ٹرمپ اور کانگریس کے درمیان اختیارات کا تنازع مزید نمایاں ہوگیا ہے۔ ایوان نمائندگان میں قرارداد کی منظوری اگرچہ فوری طور پر امریکی فوجی پالیسی تبدیل نہیں کرتی، تاہم 220-204 کی ووٹنگ اور سات ری پبلکن ارکان کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران جنگ پر حکمران جماعت کے اندر بھی اختلافی آوازیں موجود ہیں