سونا پھر مہنگا، قیمت ایک ماہ کی کم ترین سطح سے پھر اوپر آگئی

سونا پھر مہنگا، قیمت ایک ماہ کی کم ترین سطح سے پھر اوپر آگئی

عالمی مارکیٹ میں بدھ کو سونے کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا گیا جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی فیصلے پر مرکوز ہیں جہاں شرح سود میں اضافے کا امکان بڑی حد تک پہلے ہی مارکیٹ میں شامل کیا جاچکا ہے۔

اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.8 فیصد اضافے کے بعد 4 ہزار 328.39 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی سونے کی قیمت پیر کو ایک ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح تک گر گئی تھی تاہم بدھ کو عالمی مارکیٹ میں دوبارہ خریداری دیکھی گئی دوسری جانب دسمبر کی ترسیل کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 4 ہزار 369.50 ڈالر فی اونس رہے۔

مارکیٹ تجزیہ کار فرینک وال بام کے مطابق اگر امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا تو سونے کی قیمت پر مزید دباؤ آسکتا ہے جبکہ نرم پالیسی اشارے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو کم کرکے سونے کی قیمت میں بحالی کا باعث بن سکتے ہیں۔

مارکیٹ میں شرح سود کے فیصلے سے قبل کم از کم 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان تقریباً 92.4 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ اس صورتحال میں سرمایہ کار فیڈ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ چیئرمین کی پریس کانفرنس میں آئندہ پالیسی کے اشاروں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی

سونا عام طور پر مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے خلاف ایک محفوظ اثاثہ سمجھا جاتا ہے تاہم شرح سود میں اضافہ سونے جیسے ایسے اثاثوں کو رکھنے کی مواقعی لاگت بڑھا دیتا ہے جو باقاعدہ منافع یا سود ادا نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ شرح سود کے بارے میں توقعات عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں کی سمت پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں۔

کومرز بینک کے مطابق موجودہ حالات میں سونے کی قیمت پر زیادہ دباؤ نہ آنا قدرے حیران کن ہے بینک کے مطابق طویل مدتی حکومتی بانڈز کی بلند پیداوار اور امریکا میں حالیہ سیاسی خطرات سمیت مستقل مالیاتی خدشات سونے کو سہارا دے رہے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی

دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے نے قیمتوں پر دباؤ ڈالا اگرچہ مشرق وسطیٰ میں سپلائی کے خطرات اب بھی برقرار ہیں رائٹرز کے مطابق امریکی خام تیل کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے 7.1 ملین بیرل اضافہ ہوا، جبکہ ماہرین تقریباً 1.6 ملین بیرل کمی کی توقع کررہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل 93 سینٹ کمی کے بعد 107.82 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 97 سینٹ کمی کے بعد 104.86 ڈالر فی بیرل رہا۔ اس سے ایک روز قبل دونوں بینچ مارک قیمتیں تین ڈالر سے زیادہ اضافے کے ساتھ 19 مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم خطرہ بنی ہوئی ہے۔ سعودی عرب نے یَنبُع بندرگاہ سے تیل کی لوڈنگ عارضی طور پر معطل کی ہے، جبکہ حوثی حملے کے بعد سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بھی متاثر ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق یہ پائپ لائن تقریباً 4 ملین بیرل یومیہ تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو عالمی سپلائی کے تقریباً 4 فیصد کے برابر ہے۔

دیگر قیمتی دھاتیں بھی مہنگی

عالمی مارکیٹ میں دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ چاندی 1.5 فیصد اضافے کے بعد 64.60 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.7 فیصد بڑھ کر 1,788.25 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 1.6 فیصد اضافے کے بعد 1,309.80 ڈالر فی اونس ہوگیا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles