وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، تاہم عوام کو چاہیے کہ وہ اس کڑے وقت میں حکومت پر اعتماد رکھیں۔ انہوں نے پیٹرول مہنگا ہونے کی مخالفت کو ریاستی مفاد کے منافی قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے اپنے حالیہ بیان میں عوام اور ناقدین کو سخت پیغام دیا ہے کہ پیٹرول بے پناہ مہنگا ہونے کی مخالفت دراصل ریاست کے مفاد کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر اس حوالے سے غیر ضروری دباؤ نہ ڈالا جائے، کیونکہ اربابِ اختیار کسی بھی صورت ریاست کے وسیع تر مفاد پر سمجھوتا نہیں کر سکتے۔
علی پرویز ملک نے زور دیا کہ ملک کو آگے لے کر چلنا ہے تو حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی حکومتی فیصلہ بے خیالی میں نہیں کیا جا رہا بلکہ ہر اقدام کے پیچھے ایک ٹھوس منطق موجود ہے اور اوگرا مکمل شفافیت کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمتوں کا تعین کر رہا ہے۔
آئی ایم ایف کا دورہ اور ریلیف کی امید
وزیر پیٹرولیم نے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود ریلیف کی فراہمی کا آغاز کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد رواں ماہ معاشی جائزے اور نظرِ ثانی کے لیے پاکستان آ رہا ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنی معاشی ٹیم کو خصوصی ہدایات جاری کریں گے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران عوام کے لیے ریلیف کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالا جائے۔
گیس سیکٹر کا بحران اور مہنگے سودے
پیٹرولیم کے ساتھ ساتھ گیس سیکٹر کی تشویشناک صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑی پریشانی گیس کا شعبہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قطر سے 30 ملین ڈالر کا گیس کارگو بروقت نہیں نکل سکا، جس کے نتیجے میں اب وہی کارگو مجبوراً 100 ملین ڈالر کی بھاری قیمت پر لینا پڑ رہا ہے، جو کہ خزانے پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔
وزیر پیٹرولیم کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ رات ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول 4 روپے 10 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے اس کی نئی قیمت 415 روپے 83 پیسے ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر کا یہ بیان حکومت کی مالیاتی مجبوریوں اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
حکومت کے پاس اس وقت پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز بڑھانے کے سوا کوئی متبادل نہیں بچا اور اسی مجبوری کو ’ریاستی مفاد‘ کا نام دے کر عوام کو کڑوی گولی نگلنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین گیس کارگو کے معاملے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 30 ملین ڈالر کے کارگو کا 100 ملین ڈالر میں خریدا جانا انتظامی غفلت اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے، جس کا خمیازہ بالآخر غریب عوام کو مہنگی گیس کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
جب تک اس طرح کی انتظامی خامیاں دور نہیں ہوتیں، محض عالمی اداروں سے ریلیف کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔