سعودی عرب نے مدینہ کے علاقے میں تقریباً 11 کروڑ ٹن معدنی خام مال کے ذخائر دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں نایاب ارضی عناصر کے ساتھ یورینیم کی موجودگی بھی بتائی گئی ہے۔
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے یہ اعلان بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جنرل کانفرنس کے 70ویں باقاعدہ اجلاس کے دوران کیا۔ شہزادہ عبدالعزیز کے مطابق مدینہ میں جبل سید منصوبے کے مقام پر ہونے والی تلاش اور ارضیاتی مطالعات کے دوران اندازہ لگایا گیا کہ یہاں تقریباً 11 کروڑ ٹن خام معدنی ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان ذخائر میں نایاب ارضی عناصر کی مقدار نمایاں ہے جبکہ یورینیم کی بھی قابل ذکر مقدار موجود ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ نایاب ارضی عناصر جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، برقی گاڑیوں اور قابل تجدید توانائی سمیت کئی اہم صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں، جس کے باعث ایسے ذخائر کو صنعتی اور معاشی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
سعودی وزیر توانائی کے مطابق یہ دریافت ملک میں معدنی وسائل کی تلاش اور ان کی ترقی کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر دیگر شعبوں تک وسعت دینے اور معدنی و توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔