پی ٹی وی کے کوچ اور سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کے بعد فاسٹ باؤلر حارث رؤف کو قومی ٹیسٹ ٹیم میں فوری طور پر واپس لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اسلام آباد کے ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ کی فلیٹ پچ پر جہاں ’پی ٹی وی‘ کے بلے بازوں نے 400 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا، وہیں دوسری اننگز میں حارث رؤف نے اپنی تیز رفتار باؤلنگ سے مخالف ٹیم کے ہوش اڑا دیے۔
ڈومیسٹک کرکٹ کے مایہ ناز بلے باز علی زریاب 10ویں گیند پر ہی حارث کی اٹھتی ہوئی گیند کا شکار ہو گئے۔
اس کے چند گیندوں بعد تجربہ کار عمر صدیق کو مڈل اور آف سٹمپ پر پڑنے والی ایک ایسی گیند کا سامنا کرنا پڑا جس نے سیدھا ان کی آف سٹمپ اکھاڑ دی اور بلے باز حیرت سے منہ تکتے رہ گئے۔
وائٹ بال کے سپیشلسٹ حارث رؤف نے اپنے ہاتھ میں موجود لال ’کوکابورا‘ گیند سے قہر ڈھاتے ہوئے 47 فرسٹ کلاس میچز کھیلنے والے وقار احمد، تجربہ کار روحیل نذیر اور محمد سلمان کو بھی پویلین کی راہ دکھائی اور اننگز میں 5 وکٹیں اپنے نام کیں۔
محمد وسیم کی بھرپور حمایت
صدر ٹرافی گریڈ ون میں ’آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی‘ کے خلاف یہ حارث کا محض 14واں فرسٹ کلاس میچ تھا، جس میں انہوں نے شاندار کارکردگی دکھا کر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے اپنا کیس مضبوط کر دیا ہے۔
پی ٹی وی کے موجودہ کوچ محمد وسیم کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ حارث نے تیز اور بہترین منصوبہ بندی کے تحت باؤلنگ کی۔ ان کی باؤلنگ میں جارحیت، موومنٹ اور وہ تسلسل موجود تھا جو ریڈ بال کرکٹ کا بنیادی تقاضا ہوتا ہے۔
محمد وسیم نے زور دیا کہ پاکستان کو اس وقت تیز باؤلرز کی کمی کا سامنا ہے اور نومبر میں سری لنکا کے خلاف ہونے والی سیریز کے لیے حارث کو لازمی منتخب کیا جانا چاہیے۔
قومی ٹیسٹ ٹیم طویل عرصے سے تیز رفتار باؤلنگ کے بحران کا شکار ہے۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے موجودہ سائیکل میں پاکستان اپنے 9 میں سے 7 ٹیسٹ میچز ہار کر پوائنٹس ٹیبل کے سب سے نچلے درجے پر موجود ہے۔
انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے رضاء اللہ کی 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار نے یاد دلایا کہ شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کی انجریز اور غیر مستقل فارم کے باعث ٹیم کو کتنی مشکلات کا سامنا ہے۔
حارث رؤف نے اپنا واحد ٹیسٹ 2022 میں انگلینڈ کے خلاف راولپنڈی میں کھیلا تھا، جس کے بعد دسمبر 2023 میں آسٹریلیا کے دورے سے انہوں نے ورک لوڈ اور فٹنس کے باعث دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
اس فیصلے پر پی سی بی اور شائقین کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا، تاہم محمد وسیم نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حارث اس وقت مکمل طور پر تیار نہیں تھے، لیکن اب وہ 32 سال کی عمر میں ریڈ بال کرکٹ میں اپنا لوہا منوانے کے لیے بے تاب ہیں۔
یاد رہے کہ حارث ون ڈے میں 107 اور ٹی20 میں 133 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، جبکہ فرسٹ کلاس میں ان کے کھاتے میں 27.04 کی اوسط سے 47 وکٹیں موجود ہیں۔
محمد وسیم کا یہ مطالبہ موجودہ حالات میں انتہائی وزن رکھتا ہے۔ پاکستانی ٹیسٹ سکواڈ میں اس وقت ایک ایسے باؤلر کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے جو پرانی گیند سے ریورس سونگ کرنے اور خالص رفتار (پیس) سے بلے بازوں کو ڈرانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
سری لنکا کے خلاف ایشیائی کنڈیشنز میں حارث رؤف کا تجربہ اور جارحانہ انداز پاکستان کی باؤلنگ لائن میں ایک نئی جان ڈال سکتا ہے۔ اگر ٹیم مینجمنٹ ان کے ورک لوڈ کو دانشمندی سے مینیج کرے، تو وہ طویل فارمیٹ میں بھی پاکستان کے لیے ایک مہلک اور میچ وننگ ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔