چین کی ایسی چٹان جو ہر 30 سال بعد ’پتھر کے انڈے‘ دیتی ہے

چین کی ایسی چٹان جو ہر 30 سال بعد ’پتھر کے انڈے‘ دیتی ہے

چین کے جنوب مغربی صوبے گوئیژو میں ایک ایسی پراسرار چٹان موجود ہے جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ پتھر کے انڈے دے رہی ہو۔ مقامی زبان میں اسے چان دان یا کہا جاتا ہے، جس کا مطلب تقریباً ’انڈے دینے والی چٹان ‘ہے۔

یہ چٹان تقریباً 65 فٹ لمبی اور 9 فٹ اونچی ہے۔ اس کی سطح عام چٹانوں کی طرح ہموار نہیں بلکہ ناہموار ہے، تاہم اس کی سب سے حیران کن بات اس سے نکلنے والے گول اور بیضوی شکل کے پتھر ہیں۔ مقامی لوگ انہیں ’پتھر کے انڈے‘ یا ’پتھر کے پھول‘ کہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پتھر ایک ہی وقت میں چٹان سے باہر نہیں آتے بلکہ یہ عمل انتہائی سست رفتاری سے جاری رہتا ہے۔ مقامی طور پر مشہور ہے کہ تقریباً ہر 30 سال کے دوران ایک پتھر چٹان کی سطح سے نمایاں ہو کر مکمل شکل اختیار کرتا ہے اور پھر زمین پر گر جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سائنس دانوں کو 25 ہزار سال پرانے انسان کے دانتوں سے کیا ملا

صدیوں سے یہ مقام مقامی لوگوں، سیاحوں اور ارضیات کے ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک عرصے تک لوگ ان پتھروں کو کسی پراسرار یا مافوق الفطرت واقعے سے جوڑتے رہے، تاہم ارضیاتی تحقیق نے اس مظہر کی سائنسی وضاحت پیش کی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ چٹان تقریباً 50 کروڑ سال پہلے کمبرین دور میں وجود میں آئی تھی۔ اس میں مختلف سخت معدنی اجزا موجود ہیں، جبکہ گول شکل کے پتھروں میں کیلشیم کاربونیٹ کی مقدار نمایاں ہے۔

کیلشیم کاربونیٹ والے حصے اردگرد موجود سخت مواد کے مقابلے میں موسم، بارش اور قدرتی کٹاؤ سے مختلف انداز میں متاثر ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اردگرد کی چٹان اور مٹی ختم ہوتی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں یہ نسبتاً گول حصے نمایاں ہو کر باہر آنے لگتے ہیں۔ یہ قدرتی عمل انتہائی سست ہے، اسی لیے ایک پتھر کو چٹان سے مکمل طور پر نمایاں ہو کر زمین پر گرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں معدنی ذخائر کی بڑی دریافت، یورینیم بھی شامل

اس عجیب چٹان سے جڑی مقامی روایات بھی خاصی دلچسپ ہیں۔ دیہاتی ان گول پتھروں کو خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہیں اور کئی لوگ انہیں اپنے گھروں میں سجا کر رکھتے ہیں۔ یوں چین کی یہ چٹان صرف ایک قدرتی عجوبہ نہیں بلکہ لاکھوں سال پرانے ارضیاتی عمل اور مقامی روایات کا دلچسپ امتزاج بھی ہے۔

editor

Related Articles