مشہور امریکی ریپر میکل مور کو فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھانے کے بعد برطانوی گلوکار ایڈ شیرن کے امریکی ٹور سے الگ کردیا گیا ہے۔ میکل مور نے نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں 4 ستمبر کو پرفارمنس کے دوران فلسطین کی حمایت میں اظہار خیال کرتے ہوئے ’فری فلسطین‘کے نعرے لگائے تھے۔
میکل مور نے انسٹاگرام پر بتایا کہ اس معاملے پر گزشتہ ہفتے ان کی ایڈ شیرن کے ساتھ کئی مشکل گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق امریکی ٹور کے آئندہ شوز میں ان کی شرکت ختم کردی گئی ہے۔
ٹور کے پروموٹر میسینا ٹورنگ گروپ نے بھی تصدیق کی کہ متعلقہ فریقوں سے بات چیت کے بعد میکل مور کو باقی شوز میں پرفارم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پروموٹر کے مطابق آئندہ چند مقامات کی انتظامیہ نے واضح کیا تھا کہ اگر میکل مور ٹور کا حصہ رہے تو وہاں کنسرٹ منعقد نہیں ہوسکے گا۔
دوسری جانب ایڈ شیرن نے واضح کیا ہے کہ میکل مور کو ٹور سے الگ کرنے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ ٹور کے پروموٹر اور متعلقہ مقامات کی انتظامیہ کا تھا۔ شیرن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر مختلف مقامات سے بات چیت کرکے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، تاہم فیصلہ برقرار رہا۔
میکل مور طویل عرصے سے فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ 2024 میں انہوں نے فلسطین کے حق میں ’’ہندز ہال‘‘ کے نام سے ایک احتجاجی گانا بھی جاری کیا تھا۔
میکل مور کے ٹور سے الگ ہونے کے معاملے پر دیگر فنکاروں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایڈ شیرن کے ٹور کے چند سپورٹنگ فنکاروں، جن میں فنیاس، لوکاس گراہم، ایرون رو اور بیوگا شامل ہیں، نے میکل مور کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ٹور سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔
اس معاملے نے ایک بار پھر شوبز شخصیات کی جانب سے سیاسی اور سماجی معاملات پر اظہار رائے، فنکاروں کی آزادی اظہار اور بڑے میوزک ٹورز میں سیاسی بیانات کے حوالے سے بحث کو نمایاں کردیا ہے۔