پمز اسپتال سانحہ، بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ’تمغہ شجاعت‘ منظور

پمز اسپتال سانحہ، بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ’تمغہ شجاعت‘ منظور

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک بچے کو بچانے والی سٹاف نرس رضیہ نورین کے لیے ’تمغہ شجاعت‘ کی منظوری دے دی ہے، جبکہ مختلف اہم قانونی و انتظامی بلز پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے آتشزدگی کے ایک ہولناک واقعے کے دوران سٹاف نرس رضیہ نورین نے جرات کی نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر آگ کے شعلوں میں گھرے اس واحد بچے کو بحفاظت باہر نکالا جو اس حادثے میں زندہ بچ گیا تھا۔

 صدرِ مملکت کی جانب سے اس اعلیٰ سول ایوارڈ کا اعلان دراصل اس ہنگامی صورتحال میں نرس کی بے مثال ہمت، لگن اور فرض شناسی کا ریاستی سطح پر اعتراف ہے۔

اہم قانونی و انتظامی مسودوں کی منظوری

تمغہ شجاعت کے علاوہ، صدر نے مملکت کے انتظامی اور قانونی امور کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم سمریاں بھی منظور کی ہیں۔ ان میں ’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) ترمیمی بل 2026‘ اور ’سٹینڈرڈ ٹائم (انٹرپریٹیشن آف ریفرنسز) ترمیمی بل 2026‘ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ پمز میں زندہ بچ جانے والی واحد بچی آئی سی یو میں داخل ، دعائوں کی اپیل

مزید برآں، راولپنڈی میں قائم ’آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی‘ (اے ایف آئی یو) کے آلات اور تنظیم سازی میں ترامیم کے حوالے سے بھی اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔

ایک اور اہم فیصلہ بحری جہازوں پر موجود خطرناک اور زہریلے مواد کو ماحولیاتی طور پر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

اسپتالوں میں آتشزدگی جیسے ہنگامی حالات کے دوران طبی عملے کا کردار انتہائی حساس اور جان لیوا ہوتا ہے۔ عام طور پر ایسے واقعات میں شدید افراتفری کا عالم ہوتا ہے، لیکن فرنٹ لائن ورکرز، بالخصوص نرسنگ سٹاف، اکثر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر بے بس مریضوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرتے ہیں۔

ماضی میں بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن ضلعی اور ریاستی سطح پر نرسنگ عملے کی ان بے لوث قربانیوں کو وہ پذیرائی کم ہی مل پاتی ہے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ اب اس ریاستی اعزاز نے محنتی عملے کی خدمات کو ایک نئی پہچان دی ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ پمز میں زندہ بچ جانے والی واحد بچی آئی سی یو میں داخل ، دعائوں کی اپیل

صدرِ مملکت کے اس اقدام کو انتہائی خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ نرس رضیہ نورین کو ’تمغہ شجاعت‘ دینے کا فیصلہ نچلے درجے پر کام کرنے والے طبی عملے کی حوصلہ افزائی کا ایک زبردست ذریعہ بنے گا۔

اس سے یہ طاقتور پیغام جاتا ہے کہ ریاست اپنے عام شہریوں کی غیر معمولی قربانیوں کو نہ صرف دیکھتی ہے بلکہ انہیں اعلیٰ ترین سطح پر سراہتی بھی ہے۔

Related Articles