اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔
27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے شعیب شاہین، ملک عامر علی اور دیگر کو ہراساں اور گرفتار کرنے سے روک دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی جبکہ ملک عامر علی اور دیگر کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور ریاست آزاد عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت شعیب شاہین نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ سے قبل ایک مرتبہ پھر گرفتاریاں اور چھاپے شروع ہوگئے ہیں ، پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں ، شعیب شاہین نے الزام عائد کیا کہ چھاپوں کے دوران گھروں سے سامان اور رقم بھی لے لی جاتی ہے، وہ خود مریض ہیں لیکن ان کی فیملی کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا جارہا ہے۔
شعیب شاہین نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت ہراساں کرنے اور گرفتاری سے روکنے کا حکم جاری کرکے کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے مقرر کردے۔
جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ایس ایس پی آپریشنز کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں اور اس حوالے سے حکم بھی جاری کرتے ہیں۔
عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، جبکہ شعیب شاہین، ملک عامر علی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔