سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی علاج اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل کی تین ہفتے کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔ دوران سماعت وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس سے متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد دونوں اعلیٰ عدالتوں کے دائرہ اختیار اور مقدمات کی سماعت کے حوالے سے اہم آئینی سوالات زیر بحث آئے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور وفاقی آئینی عدالت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا۔ اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح سے متعلق سوال پر کسی بھی عدالت کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم میں استعمال ہونے والی زبان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکم نامے میں ریکارڈ منگوا کر مقدمات مقرر کرنے کا ذکر کیا گیا ہے اور “مقدمات مقرر کرنے” کا لفظ عدالت کو پریشان کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آئین کی منشا سمجھنا چاہتی ہے اور سوالات کا مقصد کسی عدالتی ادارے کی توہین یا تنقید نہیں بلکہ قانونی صورت حال کو سمجھنا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ عدلیہ کے درمیان باہمی احترام ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت آئین کی منشا جاننا چاہتی ہے اور اس کے سوالات کو منفی انداز میں نہ لیا جائے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار آئین میں واضح ہیں اور وہ عدالت کی معاونت کریں گے۔
سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے اختیار اور بنیادی حقوق کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ جسٹس شاہد وحید نے سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی آئینی عدالت یہ تعین کرے گی کہ بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کون سی عدالت سن سکتی ہے تو بنیادی حقوق کا معاملہ تو تقریباً ہر مقدمے میں موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ہر فوجداری مقدمے میں سامنے آتا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ قرآن و سنت کی روشنی میں دیے گئے اپنے فیصلے کی پابند نہیں ہوگی اور کیا وفاقی آئینی عدالت ایسے معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے آرٹیکل 189 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے اطلاق سے متعلق آئینی شق موجود ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا شریعت بینچ قرآن و سنت کی تشریح کرسکتا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ملک میں آئین، قانون اور قرآن کریم سے بالاتر کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی آئینی عدالت صرف آئین کی تشریح کرسکتی ہے تو آئین کی تشریح کے علاوہ دیگر معاملات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ دائرہ اختیار کے نکتے پر عدالت کی معاونت کریں گے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔
عدالت میں بانی پی ٹی آئی کے علاج کے ساتھ ساتھ 18 اگست کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کے افسران کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا لیکن کوئی سرکاری افسر عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا افسران کا پیش نہ ہونا عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں؟
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور اعتماد اور روابط کا شدید فقدان نظر آرہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کردیئے جائیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے ایک موقع دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے افسران نے یہ سمجھا ہو کہ آج کیس کی سماعت نہیں ہوگی۔
جسٹس شاہد وحید نے علاج سرکاری یا نجی اسپتال میں ہونے کے معاملے کو فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے دیگر حصوں پر عملدرآمد ہورہا ہے یا نہیں۔ عدالت نے ملاقاتوں اور بچوں سے بات کرانے سے متعلق احکامات پر بھی عملدرآمد کی صورتحال دریافت کی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا حکم اب بھی آپریشنل ہے اور وہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی صورتحال چیک کرلیں گے۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ حکومت کی نظرثانی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نجی ہسپتال میں علاج نہیں ہوسکتا، تاہم عدالت کے حکم کے دیگر حصوں پر عملدرآمد بھی دیکھا جائے گا۔
دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اب تک صرف ایک بہن کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوسکی ہے۔ وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ وہ وفاقی آئینی عدالت کے اختیار سے متعلق آئینی نکتے پر عدالت کی معاونت کریں گے۔
سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی فوجداری اپیل میں کسی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں تھی اور توہین عدالت کی درخواستوں میں بھی آئین کی تشریح درکار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کے سامنے موجود اپیلیں فوجداری مقدمات اور توہین عدالت کی درخواستوں سے متعلق ہیں۔ عدالت نے بتایا کہ گزشتہ سماعت پر عبوری حکم جاری کیا گیا تھا، تاہم بعد میں وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے نتیجے میں کچھ مقدمات وہاں دائر ہوئے اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی بعض معاملات وفاقی آئینی عدالت تک پہنچے۔
عدالت نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے ان مقدمات پر کارروائی آگے بڑھانے سے قبل سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر انہیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کے حکم کے بعد سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات پر کس طرح آگے بڑھا جائے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت سے مناسب سمجھتے ہوئے سماعت موخر کرنے کی استدعا کی اور تین ہفتے کی مہلت مانگی۔ سپریم کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی آئینی عدالت نے گزشتہ روز آرٹیکل 175-E کے تحت بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا، جبکہ اسی نوعیت کے زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ تمام ہائیکورٹس سے بھی طلب کیا گیا۔
یوں بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ اب صرف طبی سہولیات اور عدالتی حکم پر عملدرآمد تک محدود نہیں رہا بلکہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق اہم قانونی سوالات بھی اس کے ساتھ جڑ گئے ہیں تاہم ان سوالات پر حتمی قانونی پوزیشن آئندہ عدالتی کارروائی اور فیصلوں سے واضح ہوگی۔