اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کی رضاکارانہ خود نگرانی اے آئی سے پیدا ہونے والے موجودہ نقصانات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں۔
وولکر ترک نے ایک خط میں کہا کہ زیادہ طاقتور اے آئی کی دوڑ تیز ہونے کے ساتھ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں کو لاحق خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اے آئی کی ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ نقصانات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات بھی یقینی بنانا ہوں گے۔
انہوں نے فرنٹیئر اے آئی کمپنیوں کی میزبانی کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ان کمپنیوں کے لیے ضوابط مزید سخت کریں۔ ان میں سنگین واقعات کی لازمی رپورٹنگ، اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں کی تصدیق اور انسانی حقوق پر ممکنہ اثرات کا جائزہ شامل ہونا چاہیے۔
وولکر ترک نے کہا کہ اے آئی کے عالمی نظم و نسق کے لیے مختلف ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ کوئی ایک ملک تنہا اس ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے تمام خطرات سے نمٹ نہیں سکتا۔ ان کے مطابق کسی ایک کمپنی کو بھی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا کو اے آئی کے کون سے خطرات قبول کرنے چاہئیں۔
انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ کمپنیوں کی رضاکارانہ حفاظتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ لازمی قوانین اور نگرانی کا نظام بھی قائم کریں تاکہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داروں کا احتساب ہوسکے۔
وولکر ترک نے چین اور امریکا کو فرنٹیئر اے آئی ٹیکنالوجی کے اہم مراکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک سمیت دیگر ریاستوں کو ایسے اصولوں پر تعاون کرنا چاہیے جو اے آئی کی دوڑ کو حفاظتی ضوابط کم کرنے کی سمت نہ لے جائیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کے مطابق اے آئی کے خطرات کا جائزہ صرف ٹیکنالوجی کی سلامتی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے انسانی حقوق پر اثرات کو بھی مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ رازداری، صحت، خوراک، سلامتی اور دیگر بنیادی حقوق بھی غیر ذمہ دارانہ اے آئی کے استعمال سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ اے آئی کے لیے حفاظتی اقدامات جدت کی رفتار کو لازماً سست کردیں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت ایسی ٹیکنالوجی کی ترقی ہے جس میں جدت کے ساتھ انسانی حقوق، شفافیت اور جواب دہی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
وولکر ترک نے کہا کہ اے آئی غلط معلومات اور غیر مساوی خودکاری کے پھیلاؤ کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے، جبکہ مناسب طریقے سے استعمال ہونے کی صورت میں صحت، تعلیم اور موسمیاتی مسائل جیسے شعبوں میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی لیے موجودہ مرحلے پر حکومتوں اور کمپنیوں کے فیصلے مستقبل میں اے آئی کے اثرات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔