مکہ دفاعی معاہدہ، سعودی عرب کے اشارے پر پاکستان بھرپور عملدرآمد کرے گا، حامد میر

مکہ دفاعی معاہدہ، سعودی عرب کے اشارے پر پاکستان بھرپور عملدرآمد کرے گا، حامد میر

  معروف صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں تمام مسلم ممالک کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

حامد میر نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر ایک ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے ذریعے مسلم ممالک کو آپس میں لڑایا جائے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال بھی اسی تناظر میں انتہائی اہم ہے۔

مکہ کی جانب ڈرون کا معاملہ

انہوں نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ کی سمت ڈرون بھیجے جانے  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا، تاہم سوال یہ ہے کہ اس تنازع کو مزید آگے بڑھانے کے بجائے اسے ختم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جارہی۔

حامد میر نے کہا کہ ایک طرف اسرائیل کو دشمن قرار دیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب دنیا بھر کے مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مکہ مکرمہ کی سمت میزائل یا ڈرون بھیجے جانے کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔

ایران کو کردار ادا کرنا چاہیے

حامد میر کے مطابق اس صورتحال میں ایران کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے بظاہر حوثی ملیشیا کے حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم ایران کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔

مکہ دفاعی معاہدے کا ذکر

حامد میر نے مکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدے کے تحت اہم ذمہ داریاں رکھتے ہیں  اگر سعودی عرب پر حملہ ہوتا ہے تو معاہدے کی شرائط کے تحت بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دفاعی معاملات کی تفصیلات

انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے دفاعی معاہدوں پر عملدرآمد کی تمام تفصیلات عام طور پر عوام کے ساتھ شیئر نہیں کی جاتیں،حامد میر نے کہا کہ ان کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ سعودی حکومت کے ساتھ رابطے اور معلومات کے تبادلے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور ترکیہ سے عملی مدد طلب کی گئی تو اس کے بعد صورتحال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔

خطے میں بڑے ردعمل کا امکان

حامد میر نے کہا کہ اگر سعودی عرب کی جانب سے مدد طلب کی گئی اور حملوں کے مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کا فیصلہ ہوا تو دنیا دیکھے گی،انہوں نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران جو فوجی صلاحیتیں اور کارروائیاں دیکھی گئیں، اسی نوعیت کے مناظر دوبارہ بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

کشیدگی ختم کرنے پر زور

حامد میر نے کہا کہ بہتر راستہ یہی ہے کہ حوثی ملیشیا سعودی عرب کے خلاف حملوں سے گریز کرے تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔  موجودہ صورتحال نے مکہ دفاعی معاہدے کو ایک اہم مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو مکہ دفاعی معاہدے کے عملی مضمرات سامنے آسکتے ہیں، جس کے بعد خطے کی سلامتی کی صورتحال پر بھی وسیع اثرات مرتب ہونے کا امکان ہوگا۔

editor

Related Articles