امریکا اپنی مشرق وسطیٰ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں بنا سکتا، جے ڈی وینس

امریکا اپنی مشرق وسطیٰ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں بنا سکتا، جے ڈی وینس

 امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ امریکا اپنی مشرق وسطیٰ سے متعلق خارجہ پالیسی کو اسرائیل کے مفادات کے تابع نہیں کر سکتا بلکہ واشنگٹن کو اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔

 ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل امریکا کا ایک اہم شراکت دار ہے، بالخصوص عسکری ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے معاملے میں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بعض معاملات پر اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود امریکا ہر معاملے میں اس کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا اور واشنگٹن کو اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دینا ہوگی۔

  ٹرمپ کا مؤقف

جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکی مفادات کے معاملے میں وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے اختلاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  ٹرمپ ان امریکی صدور میں نمایاں ہیں جنہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل ایک اچھا شراکت دار ہے، تاہم کسی مخصوص معاملے پر نیتن یاہو اور امریکی قیادت کی رائے مختلف ہو سکتی ہے یا امریکا اسرائیلی وزیراعظم کے مؤقف کو درست نہیں سمجھتا۔

  نیٹو کی مثال

جے ڈی وینس نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے نیٹو کی مثال بھی دی، ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے نیٹو ممالک کے ساتھ انتہائی اہم تعلقات اور شراکت داریاں ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ واشنگٹن اپنی مکمل یورپی خارجہ پالیسی کو نیٹو کے تابع کردے،انہوں نے کہا کہ اسی اصول کے تحت امریکا اپنی مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کو بھی اسرائیل کے تابع نہیں ہونے دے سکتا۔

 امریکی سفیر کا مختلف مؤقف

دوسری جانب اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تعلقات اب بھی مضبوط اور مستحکم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب امریکا ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہوتا ہے تو اس کا مقصد صرف اسرائیل کا دفاع کرنا نہیں بلکہ امریکی مفادات اور سلامتی کا تحفظ بھی ہے۔

editor

Related Articles