انتشاری کمیٹی کے گرفتار رکن ضیا نے کالعدم ایکشن کمیٹی اور طالبان کا گٹھ جوڑ بے نقاب کردیا

انتشاری کمیٹی کے گرفتار رکن ضیا نے کالعدم ایکشن کمیٹی اور طالبان  کا گٹھ جوڑ بے نقاب کردیا

  آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کی آڑ میں سرگرم ایک مسلح نیٹ ورک سے متعلق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سنسنسی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جبکہ ایک زیرحراست شخص کے  بیان میں اسلحے کی خریداری، فورسز کو روکنے کی منصوبہ بندی اور افغانستان سے رابطوں کے حوالے سے تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

 انٹیلی جنس اداروں  نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن  میں ضیا نامی شرپسند کو گرفتار، جس کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر میں عوامی حقوق کے نام پر سرگرم  کالعدم انتشاری کمیٹی اور طالبان کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا ہے ۔

زیرحراست شخص کا بیان

زیرحراست شخص نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ  میرانام  ضیا محمد فاروق خان ہے  سدھنوتی سے تعلق ہے اس کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے اسلحے کی خرید و فروخت سے وابستہ رہا، جبکہ گزشتہ دو سال سے کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی سے رابطے میں ہونے کا  انکشاف  بھی کیا ۔

احتجاج میں مسلح افراد ک

ویڈیو بیان میں کہا گیا کہ امان، مہران اور ناظم نامی افراد گزشتہ تین ماہ سے ہونے والے دھرنوں میں موجود مسلح افراد سے رابطے میں تھے۔ بیان کے مطابق ان افراد  کا مقصد فورسز کو روکنے کے لیے مسلح افراد کو استعمال کرنا تھا۔

26 اگست کو  رابطہ

زیرحراست شخص کے  بیان کے مطابق 26 اگست کو ماجد نامی شخص نے اس سے رابطہ کیا اور امان کا پیغام پہنچایا کہ اسلحے کا انتظام کیا جائے تاکہ کوٹلی سے آنے والی فورسز کو روکا جاسکے۔

افغانستان سے رابطے

 شرپسند نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسلحے کے حصول کے لیے افغانستان میں زرشاد نامی شخص سے رابطہ کیا گیا29 اگست کو زرشاد سے بات ہوئی، جس کے بعد  پانچ کلاشنکوف، ایک ایم فور رائفل اور چار ہزار گولیوں کے حصول کا انتظام کیا گیا۔

رقم افغانستان  بھیجی

زیرحراست شخص کے  بیان کے مطابق اسلحے کی رقم ماجد کی جانب سے افغانستان بھیجی گئی،اس کے بعد وہ اسلحہ وصول کرنے کے لیے ایک مقام پر پہنچا، تاہم   اس کے ساتھ موجود دو افراد فرار ہوگئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے گرفتار کرلیا۔

مزید افراد کے نام سامنے آگئے

 بیان میں طارق، ساجد، اخلاق، اظہر اور ماجد کے نام بھی لیے گئے ہیں اور انہیں امان کے قریبی افراد قرار دیا گیا ہےشرپسند نے کہا کہ ان افراد کے پاس سنائپر رائفل اور دستی بم بھی موجود ہیں۔

زیرحراست شخص کے  بیان میں یہ   بھی  کہا گیا کہ وہ تین سے چار مرتبہ فورسز پر ہونے والے حملوں میں شامل رہا، تفتیش میں اسلحے کے  نیٹ ورک، بیرونی رابطوں، مالی لین دین اور احتجاجی سرگرمیوں کے دوران مسلح افراد کی موجودگی سے متعلق دعوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

حکام کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی  گرفتار افراد کے کردار سے متعلق  مزید حقائق واضح ہونے کی توقع ہے۔

editor

Related Articles