پاکستان کو پہلے پائیدار خودمختار پانڈا بانڈ کے اجرا پر عالمی اعزاز مل گیا،پاکستان نے پائیدار خودمختار پانڈا بانڈ جاری کرنے کا ایوارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔
مشیر وزارت خزانہ خرم شہزاد نے اپنے بیان میں بتایا کہ پاکستان کو پہلے سسٹین ایبل سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر عالمی سطح پر ایوارڈ دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جاری کردہ پانڈا بانڈ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی نمایاں رہی اور اس کی طلب جاری کیے گئے حجم سے پانچ گنا زیادہ رہی۔
سرمایہ کاروں تک رسائی
خرم شہزاد کے مطابق پانڈا بانڈ کے اجرا سے پاکستان کو نئے اور بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل ہوئی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مدد ملی ہے اور دونوں ممالک کے مالیاتی شعبوں کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
رقم کہاں خرچ ہوگی؟
مشیر وزارت خزانہ نے بتایا کہ پانڈا بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم کو پانی، توانائی اور صحت کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا،ان کے مطابق اس بانڈ کے اجرا کے نتیجے میں پاکستان میں گرین اور سماجی طور پر جامع سرمایہ کاری کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جس سے پائیدار ترقی کے منصوبوں کو مالی معاونت فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مئی میں پانڈا بانڈ کا اجرا
خرم شہزاد نے بتایا کہ پاکستان نے مئی 2026 میں 1.75 ارب چینی یوآن مالیت کا پانڈا بانڈ جاری کیا تھا،انہوں نے بتایا کہ تین سالہ پانڈا بانڈ کے لیے 2.5 فیصد کوپن ریٹ مقرر کیا گیا تھا۔
چین کی مارکیٹ میں اہم قدم
پانڈا بانڈ چینی کرنسی یوآن میں چین کی مقامی کیپیٹل مارکیٹ میں جاری کیا جانے والا بانڈ ہوتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس نوعیت کے بانڈ کا اجرا چینی مالیاتی مارکیٹ سے براہ راست سرمایہ حاصل کرنے اور سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
حکومت کے مطابق پانڈا بانڈ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کو ترقیاتی شعبوں میں استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔